شرح سود میں اضافہ صنعتی ترقی کیلئے جھٹکا،تاجروصنعتکار

شرح سود میں اضافہ صنعتی ترقی کیلئے جھٹکا،تاجروصنعتکار

عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدی مسابقت مزید کمزور ہوگی صنعتی شعبے کی مشکلات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا،عاطف اکرام ودیگر

کراچی (بزنس رپورٹر)تاجر وصنعتکار برادری نے پالیسی ریٹ میں مزید 0.5 فیصد اضافے کے فیصلے پر گہری تشویش، مایوسی اور شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ وفاقی چیمبرکے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ اس اضافے کے بعد بنیادی پالیسی ریٹ بڑھ کر 12 فیصد ہوگیا ہے جو علاقائی ممالک کے مقابلے میں پاکستانی معیشت کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے ،ایف پی سی سی آئی نے اس اقدام کو معیشت کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے ۔ان کے مطابق مانیٹری پالیسی میں مزید سختی سے معاشی استحکام کی جاری کوششوں کو شدید دھچکا لگے گا، صنعتی ترقی کی رفتار متاثر ہوگی اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدی مسابقت مزید کمزور ہوگی۔کراچی چیمبرکے صدر طلعت محمود نے شرحِ سود میں اضافے کے فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے کاروبار کرنے کی لاگت میں مزید اضافہ ہوگا، نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔فیڈرل بی ایریا ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (فباٹی)کے صدر سید رضا حسین نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں 50 بیسز پوائنٹس اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شرح سود 11.5 فیصد سے بڑھا کر 12 فیصد کرنا صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔

سید رضا حسین نے کہا کہ مہنگی فنانسنگ کے باعث صنعتوں اور کاروباری اداروں کی لاگت میں مزید اضافہ ہوگا جبکہ صنعتکار پہلے ہی بلند پیداواری لاگت، مہنگائی اور مختلف معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے حالات میں شرح سود میں اضافہ صنعتی شعبے کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی کے صدر عبدالہادی نے شرح سود میں اضافے کو بزنس کمیونٹی کے لیے انتہائی مشکل اور ناقابلِ قبول فیصلہ قرار دے دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ کو 12 فیصد کی بلند سطح پر لے جانے سے صنعتی شعبے کے مسائل مزید گمبیر ہو جائیں گے ۔ عبدالہادی نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے بزنس کمیونٹی کے پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ پر لانے کے مطالبے کو یکسر نظرانداز کر دیا جو باعث تشویش ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنعتی شعبے کی حقیقی مشکلات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...