کپاس کی پیداوار ،10 لاکھ گانٹھوں کا ہدف حاصل نہ ہوسکا

کپاس کی پیداوار ،10 لاکھ گانٹھوں کا ہدف حاصل نہ ہوسکا

31 اکتوبر تک جننگ فیکٹریوں میں 47 لاکھ گانٹھوں کے مساوی پھٹی کی ترسیل

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)مقامی کاٹن زونز میں گنے کی غیر معمولی کاشت کے باعث مسلسل دوسرے سال بھی ایک بھی پندھرواڑے میں بھی کپاس کی 10لاکھ گانٹھوں کا مجموعی قومی پیداواری ہدف حاصل نہ ہوسکا، تاہم ایف بی آر کی جانب سے ڈیجیٹل انوائسنگ پر عمل درآمد سے روئی کے غیر دستاویزی کاروبار کی شرح گھٹنے سے رواں سال کپاس کی مجموعی پیداوار گذشتہ سال کی نسبت زائد ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں جبکہ رواں سال بیشتر کاٹن زونز میں درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافے کے باعث روئی کا ریشہ اور بیج کافی متاثر ہوئے ہیں۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری ہونے والے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 31اکتوبر تک مقامی جننگ فیکٹریوں میں 7فیصد کے اضافے سے مجموعی طور 47 لاکھ 43ہزار بیلز کے مساوی پھٹی کی ترسیل ہوئی جس میں پنجاب کی جننگ فیکٹریوں میں 19لاکھ 99ہزار جبکہ سندھ کی جننگ فیکٹریون میں 27لاکھ 44ہزار گانٹھوں کے مساوی پھٹی کی ترسیل ریکارڈ کی گئی ہے جو گزشتہ سال کی نسبت بالترتیب 5فیصد اور 9فیصد زائد ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...