اشیائے خوردو نوش کی فرضی ریٹ لسٹوں کا انکشاف

اشیائے خوردو نوش کی فرضی ریٹ لسٹوں کا انکشاف

ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری ہونے والا اشیائے خوردو نوش کا نرخنامہپرائس کنٹرول سیل کی مقرر کردہ قیمتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ،دکانداروں پر تھوک سے بھی کم قیمت پر فروخت کیلئے دبائو، انتظامیہ کو عملدرآمد میں ناکامی کا سامنا ہے ،رپورٹ

فیصل آباد (مطیب ورک)ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کے پرائس کنٹرول سیل کی طرف سے حقائق کے برعکس فرضی ریٹ لسٹیں تیار کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ سرکاری فائلوں کا پیٹ بھرنے اور اعلیٰ حکام کو کارکردگی رپورٹس بھجوانے کیلئے غلہ منڈیوں میں رائج تھوک اناج کی قیمتوں سے بھی کم قیمت کی ریٹ لسٹیں تیار کی جاتی ہیں جن پر عملدرآمد حقیقتاً ناممکن ہے جبکہ کریانہ فروشوں کو اس قیمت پر اشیاء فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے ، سرکاری حکم نہ ماننے والے دکانداروں کو جرمانے اور پابندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،ضلعی حکومت کے پرائس کنٹرول سیل کی طرف سے بند کمروں میں بیٹھ کر تیار کی جانے والی ریٹ لسٹوں سے عوام کو کسی قسم کا ریلیف ملنا بعید از قیاس معلوم ہوتاہے جبکہ ڈی سی او کے دستخط سے نافذالعمل ہونے والی لسٹوں پر شاید غور کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا جاتا، ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری کی جانے والی ماہانہ ریٹ لسٹ کے مطابق مختلف اجناس کی فی کلو گرام قیمتیں کچھ اس طرح سے مقرر کی گئی ہیں،سفید چنے 56روپے ، چنے سیاہ 60روپے ، دال چنا 58روپے ، دال مونگ 140روپے ، دال ماش 144روپے ، دال مسور 144روپے ، باسمتی چاول 78روپے ، چاول ادھواڑ 64روپے ، بیسن 60روپے ، چینی 52روپے ، اور سرخ مرچ 200روپے فی کلو گرام جبکہ اس کے بالکل برعکس ،،روزنامہ دنیا،، کی تحقیق کے مطابق شہر کی بڑی غلہ منڈی میں بھی مذکورہ اشیائے خوردونوش کی قیمتیں اس سرکاری لسٹ سے زیادہ ہیں، غلہ منڈی میں رائج فی من یا 50 کلو گرام جنس کے لیے مقرر کی گئی قیمتوں کے مطابق انہی اجناس کی فی کلو گرام قیمتیں کچھ یہ بنتی ہیں، چنا سفید 80روپے ، چنا سیاہ 60روپے ، دال چنا56روپے ، دال مونگ 147روپے ، دال ماش 157روپے ، دال مسور 152روپے ، باسمتی چاول 112روپے ، چاول ادھواڑ 70روپے ، بیسن 64روپے ، چینی54روپے اور سرخ مرچیں پسی ہوئی 215روپے فی کلو گرام، جبکہ کریانہ فروش دکاندار منڈی سے یہ اشیا خرید کر اگر 10 فی صد منافع کے ساتھ بھی فروخت کریں تو قیمتیں سرکاری ریٹ لسٹ سے اوسطا 17 فی صد زائد بنتی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق قیمتوں کا تعین کرنے والی پرائس کنٹرول کمیٹی کی طرف سے غلہ منڈی کے بیوپاریوں سے زبردستی اپنی مرضی سے بنائی جانے والی ریٹ لسٹوں پر رضامندی حاصل کی جاتی ہے اور اس کے عوض گراں فروشی کے خلاف ہونے والی کاروائی سے اناج کے بڑے تاجروں کے متاثر نہ ہونے کا یقین دلایا جاتا ہے جبکہ نمائشی کارروائیوں میں انتہائی چھوٹے درجے پر کام کرنے والے کریانہ فروشوں کو سزا و جرمانہ کر کے ڈی سی او اور صوبائی حکومت کو اعلی کارکردگی کی رپورٹیں بھجوائی جاتی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں