پی ایچ اے کی غفلت سے لاکھوں کے منصوبے تباہ، نیلامی بھی منصوبوں کو نہ چلا سکی
سابق کمشنر سلوت سعید نے 1سال2ماہ قبل کینال روڈ پرچلڈرن پلے ایریا، فن لینڈ اوردیگرمنصوبوں کاحکم دیا،صرف فلاورشاپ قائم ہوئی وہ بھی غفلت کی بھینٹ چڑھ گئی
فیصل آباد(خصوصی رپورٹر)پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کی روایتی غفلت سے لاکھوں کے منصوبے تباہ ہوگئے ۔ پی ایچ اے پرانے منصوبوں پر توجہ دینے کی بجائے نئے منصوبوں کی دوڑ میں آگے نکل گئی، نیلامی بھی منصوبوں کو نہ چلا سکی ۔ پی ایچ اے کی جانب سے سرکاری خزانے سے لاکھوں خرچ کر کے بنائے جانے والے منصوبے عدم توجہ کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، منصوبوں کی خوب تشہیر کی گئی اور افسروں کی داد سمیٹنے کے بعد انہیں نظر انداز کردیا گیا 23 نومبر 2024 کو ڈویژنل کمشنر سلوت سعید کی زیر صدارت اجلاس میں طے کیا گیا کہ روایتی اقدامات کے برعکس شہری ماحول کو سر سبز و شاداب، خوشنما اور دلکش بنانے کیلئے نئی اختراعات متعارف کرائی جائینگی،کمشنر سلوت سعید نے فوڈ کورٹس کے قیام کے علاوہ کینال پارک میں چڑیا گھر کے منصوبے کیلئے اقدامات کرنے کی تاکید کی اور کہا کہ حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق پارکس کی کینٹینز بھی شہریوں کیلئے پرکشش ہونی چاہئیں۔
کینال روڈ کو جاذب نظر بنانے کیلئے منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا اور کہا دستیاب اراضی کو چلڈرن پلے ایریا، فن لینڈ اور کٹ فلاور شاپس جیسے منصوبوں کیلئے نیلام کریں جبکہ باغ جناح میں کٹ فلاور شاپس بنانے کی منصوبہ سازی بھی کی جائے جس پرپی ایچ اے نے کٹ فلاور شاپ بنانے پر کام شروع کردیا اور لاکھوں لگا کر باغ جناح کے داخلی راستے پر یہ فلاور شاپ بنادی 18 دسمبر 2024 کو کمشنر سے شاپ کا باقاعدہ افتتاح بھی کروایا گیا۔ شاپ پر پھول پودے فلاور پاٹ گارڈن ڈیکور اور پھولوں کے بیج سمیت باغبانی کی اشیا رکھی اور ایک ریٹ لسٹ بھی آویزاں کی گئی۔ شہریوں کو بہترین سہولت دینے کا تاثر دیا مگر افتتاح کے کچھ ہی دیر بعد یہ فلاور شاپ بھی پی ایچ اے کے دیگر کئی منصوبوں کی طرح محکمانہ غفلت کی بھینٹ چڑھ کر تباہ ہوگئی ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سرکاری خزانے کو مال مفت دل بے رحم کی طرح ضائع کرنے پر پی ایچ اے افسروں کیخلاف سخت کارروائی کی جائے جبکہ ڈی جی پی ایچ اے دلاو خان چدھڑ کا کہنا ہے کہ فلاور شاپ کو نیلام کردیاتھا جوٹھیکیدار سے نہ چل سکی اس وجہ سے بند پڑی ہے۔