راکھ میں دبے خواب، ہر لمحہ عذاب

سانحہ کوئی ہو‘ بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ مگر ذرا چشم تصور سے اس اذیت کا اندازہ کیجئے کہ جب کسی عمارت کے اندر آپ کے پیارے شعلوں کی لپیٹ میں آ چکے ہوں۔ اندر وہ بے بسی سے مدد کیلئے چیخ وپکار کر رہے ہوں اور باہر آپ بے بسی سے تڑپ رہے ہوں اور کوئی پرسانِ حال نہ ہو۔ گُل پلازہ کراچی کی یہی ٹریجڈی اور یہی کہانی ہے۔ اس وقت تک انتظامیہ کی جانب سے 71 لوگوں کے مرنے کی تصدیق ہو چکی۔ پولیس سرجن کے مطابق کوئلہ بنی میتوں کا ڈی این اے نمونہ لینا آسان نہیں۔
آگ لگنے اور پھر اسے بجھانے کا ہولناک منظر نامہ دیکھ لیجئے۔ 17 جنوری رات کے دس بج کر 22منٹ پر آگ لگی۔ بند ہوتے ہوئے پلازے کے اس وقت تک 16عمومی دروازوں میں سے 13 مقفل ہو چکے تھے۔ 1200 دکانوں کے اس سہ منزلہ پلازے میں ایمرجنسی اخراج کا کوئی ایک راستہ بھی نہیں تھا۔ دھوئیں کے الارم کا کوئی سسٹم سرے سے بلڈنگ میں تھا ہی نہیں ۔ آگ کو بجھانے کے کوئی پائپ نہیں تھے‘ نہ پانی ہر فلور پر اور نہ ہی ہر دکان میں آگ بجھانے کا کوئی سلنڈر اور انتظام تھا۔
ایک فائر فائٹر کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ سے جس دکان میں سب سے پہلے آگ لگی اگر اس میں آگ بجھانے کا انتظام ہوتا تو آگ یوں آناً فاناً پھیل نہ جاتی بلکہ وہیں بجھا دی جاتی۔ بلدیہ کا فائر ٹینڈر تاخیر سے پہنچا اور ڈیڑھ دن بعد آگ پر قابو پایا جا سکا۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں ساری دنیا ایٹمی پاکستان کا چہرہ دیکھ رہی ہے۔ ایک طرف ہمارے بلند بانگ دعوے آسمان کی بلندیوں کو چھُو رہے ہیں اور دوسری طرف ہماری روز مرہ کارکردگی زمین کی پستیوں تک پہنچی ہوئی ہے۔
گل پلازے کی تعمیر 1980ء میں مکمل ہوئی تھی۔ ایم اے جناح روڈ‘ صدر کراچی میں واقع اس عمارت میں 500 دکانیں تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ بعد ازاں 1998ء سے 2005ء تک مزید دکانیں بنانے کیلئے خلافِ قانون اجازت نامے یا موت کے پروانے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے کیسے لے لیے گئے اس کی تفصیلی کہانی بھی سامنے آنے والی ہے۔ سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے مگر یہ ہمارے حکمرانوں کی ترجیح نہیں۔ اُن کی ترجیح زیادہ سے زیادہ ذاتی منفعت اور اقتدار پر طویل گرفت ہے۔
قدرتی آفت ہو یا انسانی غفلت‘ ہر سانحے کے بعد اصلاحِ احوال کے پروگرام پیش کیے جاتے ہیں مگر پھر اگلے سانحے تک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کسی زمانے میں کراچی خوش قسمت تھا مگر اب کئی دہائیوں سے ایک آسیب زدہ شہر بن چکا ہے۔ میں پہلی بار غالباً 1980ء کی دہائی میں کراچی گیا تھا۔ وہاں جب میں نے ایک سڑک لاہور والی رفتار سے عبور کرنے کی کوشش کی تو ایک تیز رفتار ٹرک نے تقریباً مجھے کچل دیا تھا۔ تب میں نے کراچی میں اپنے چند روزہ قیام کے دوران اپنی چال اور احتیاط‘ دونوں کو تیز رفتار کر دیا۔ کراچی وہ شہر ہے کہ جہاں انسانی جان کی کوئی قدر وقیمت نہیں۔ یہاں بندہ مارنا آسان اور چیونٹی مسلنا دشوار ہے۔ اس شہر پر ایسے ایسے سفاک ادوار بھی آئے کہ جب یہاں بوری بند لاشوں کے انبار ملتے تھے۔ جب یہاں بندوق اور کلاشنکوف کی حکمرانی تھی۔ جب یہاں جہاں بھر کے ہمدرد‘ ادارہ ٔہمدرد کے بانی‘ شہر کی علمیت وشرافت کے علمبردار حکیم محمد سعید اور آبروئے صحافت‘ جرأتِ اظہار کے نشان اور حق وصداقت کے ترجمان جناب صلاح الدین کو اختلافِ رائے کی بنا پر خوف ودہشت کی قوتوں نے شہید کر دیا تھا۔ اب کراچی میں بوری بند لاشیں تو نہیں ملتیں اور نہ وہاں دہشت مافیا کا راج ہے مگر بدنظمی‘ بدانتظامی‘ بیڈ گورننس اور کرپشن اپنے عروج پر ہے۔ خواجہ آصف وہ منفرد سیاستدان ہیں جن کے منہ سے کبھی کبھی سچی بات نکل جاتی ہے۔ منگل کے روز انہوں نے قومی اسمبلی میں روایتی شعلہ بیانی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ 18ویں ترمیم ڈھکوسلا نکلی‘ ہر اختیار صوبائی حکومت کے پاس چلا گیا‘ نچلی سطح پر اختیار نہیں ہوگا تو آگ کون بجھائے گا؟ اس پر پیپلز پارٹی کے دوست ناراض ہوئے۔ ایم کیو ایم والے الگ سندھ حکومت سے برہم ہیں۔ حالانکہ اس شہر کی بربادی میں ایم کیو ایم نے ہولناک کردار ادا کیا۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم گہرائی سے اپنے مسائل حل کرنے کے بارے میں سوچ بچار نہیں کرتے۔ ملکی سطح پر سروے کروا لیں‘ کراچی میں بالخصوص اور سارے ملک میں بالعموم 95 فیصد پلازے اور تجارتی مراکز آگ بجھانے والے آلات وانتظامات کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے جائیں گے۔ اسلام آباد میں ہوئے ایک سروے کے مطابق بلیو ایریا اسلام آباد کے 180تجارتی مراکز میں آگ بجھانے کا کوئی انتظام نہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو مختلف ضروریات کی بنا پر طشتریوں میں ''انتخابی کامیابی‘‘ کے ٹیگ کے ساتھ سجا سجایا اقتدار مل جاتا ہے لہٰذا انہیں اپنی حسن کارکردگی اور عوام کے ووٹوں کی کوئی خاص پروا نہیں ہوتی۔
گزشتہ دنوں ایوانِ صدر اسلام آباد میں بلاول بھٹو نے سندھ کی ترقی اور عوامی خدمات کے موضوع پر ایک بریفنگ دی۔ اس بریفنگ میں بیرونی ممالک کے سفیر اور نمائندے بھی موجود تھے۔ بلاول نے سندھ میں صحت‘ تعلیم‘ اعلیٰ سہولتوں والے ہسپتالوں اور نئی یونیورسٹیوں کے قیام اور انسفراسٹرکچر وغیرہ کے بارے میں متاثر کن بریفنگ دی مگر گورننس کی عملی صورتحال اس سے مختلف ہے۔ اس ترقی کا پول گل پلازہ جیسے سانحات کھول دیتے ہیں۔ کراچی زمانوں سے مسائلستان بنا ہوا ہے مگر وہاں شہری سہولتوں اور جان و مال کا تحفظ نہیں۔
اڑھائی تین کروڑ آبادی کے شہر کی بلدیہ عظمیٰ کیسے اتنے بڑے شہر کا انتظام چلا سکتی ہے؟ دنیا کے مہذب ممالک زمانوں کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ مقامی حکومتیں گڈ گورننس کی جان ہیں۔ ہم نے چند ماہ قبل ذاتی مشاہدے سے امریکہ کی مقامی حکومتوں کا تفصیلی احوال بیان کیا تھا۔ وہاں تین لاکھ سے پانچ لاکھ آبادی تک ٹاؤنز کا انتظام کسی صوبائی یا وہاں کی اصطلاح کے مطابق کسی ریاست کے پاس نہیں ہوتا‘ نہ ہی کوئی بیورو کریٹ وہاں حکمرانی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ ہر ٹاؤن کی منتخب بااختیار اپنی حکومت ہوتی ہے‘ جس کی اپنی پولیس‘ اپنے پرائیویٹ اورسرکاری ہسپتال اور اپنی ٹرانسپورٹ ہوتی ہے۔ اپنا جدید ترین فائر بریگیڈ‘ اپنے تعلیمی ادارے ہوتے ہیں۔ ریاستی اور وفاقی فنڈز اپنی جگہ مگر یہ ٹاؤن اپنے وسائل خود جمع کرنے اور خرچ کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔
کراچی میں شرقی وغربی وغیرہ کی تقسیم تو موجود ہے اور اس کا کچھ نہ کچھ انتظامی ڈھانچہ بھی ہے مگر بااختیار بلدیاتی ادارے نہیں ہیں۔ سارا اختیار واقتدار صوبائی حکومت کے پاس ہے۔ کراچی میں مختصر عرصے کیلئے بلدیہ کے پاس اختیارات آئے تھے اور بعض میئرز نے اچھے کام بھی کئے مگر جو بنیادی نوعیت کے فیصلے ہونے چاہئیں تھے وہ نہ ہو سکے۔ اب جب کبھی کراچی جانا ہوتا ہے‘ شہر کی حالت پہلے سے زیادہ خستہ نظر آتی ہے۔ کراچی کے گرد بلوچستان تک پھیلے ہوئے صحرا میں میلوں پہ محیط فارم ہاؤسز اور اشرافیہ کی بستیاں تو بن گئی ہیں مگر نئے شہر نہیں بسائے گئے۔ کثرتِ آبادی کا سارا بوجھ کراچی پر پڑ گیا ہے۔ باہر سے آنے والوں نے کچھ کچی پکی آبادیاں بنا لی ہیں مگر اُن میں بنیادی سہولتیں ناپید ہیں۔
گل پلازہ میں ایسی ہولناک آگ تھی کہ جس میں انسان‘ سامان‘ سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا۔ آگ میں جلنے والا ہر شخص اپنے پیاروں کو گہرے زخم دے کر گیا ہے۔ ایسے زخم کہ جنہیں وقت کا مرہم بھی مندمل نہیں کر پائے گا۔ میڈیا پر کسی ماں کو اپنے بچے کیلئے‘ کسی بہن کو اپنے بھائی کیلئے‘ کسی بوڑھے باپ کو اپنے جواں سال بیٹے کیلئے اور کسی بیوی کو اپنے سہاگ کیلئے آہ وبکا اور بچوں کو پاپا پاپا کہتے سنتا ہوں تو دل پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔ گل پلازہ کے اندر راکھ میں دبے خواب اور باہر ہر لمحہ عذاب ہی عذاب ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں