پاکستان میں کئی مذہبی سیاسی جماعتیں دہائیوں سے آزادیٔ فلسطین کی جدوجہد کرتی آ رہی ہیں۔ سرکاری سطح پر ذوالفقار علی بھٹو کی لاہور میں اسلامی کانفرنس سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم تک فلسطین کی آزادی ہر حکومت کے ایجنڈے میں شامل رہی ہے لیکن اس سب کے باوجود نہ فلسطین آزاد ہو سکا اور نہ اسرائیل کے مظالم میں کوئی کمی ہوئی بلکہ غزہ پر حالیہ قبضے اور نہتے عوام پر مسلسل حملوں میں 70 ہزار مظلوموں کی شہادت اس بات کی غماز ہے کہ ہمارا ملکی اور بین الاقوامی احتجاج کوئی اثر نہیں دکھا سکا۔ ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس کی سائیڈ لائن پر امریکی صدر ٹرمپ کے امن بورڈ کی رکنیت پر وزیراعظم شہباز شریف کے دستخط سے پاکستان اس پیس بورڈ کا حصہ بن گیا ہے‘ لیکن اس وقت پاکستان میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن‘ مجلس وحدت المسلمین کے سربراہ اور اسی ہفتے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے والے سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس اور سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹرگوہر کے بیانات آ گئے کہ ''ٹرمپ بورڈ نامنظور‘‘۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ اپوزیشن جماعتوں نے کسی حکومتی فیصلے کو مسترد کیا ہو مگرجب ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانا ہوں تو اپوزیشن مسترد اور نامنظور جیسے الفاظ کو وقتی طور پر اپنی ڈکشنری سے حذف کر دیتی ہے۔
اس سے پہلے کہ پاکستان کی ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیں‘ تاریخ کے جھروکوں سے مسئلہ فلسطین کے تانے بانے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ غزہ کو برطانیہ نے پہلی عالمی جنگ کے دوران سلطنت عثمانیہ سے اپنے کنٹرول میں لے لیا اور فلسطین کا حصہ شمار کیا گیا۔ برطانوی کنٹرول کے بعد وہاں یہودی آباد کاروں اور مقامی عرب مسلمانوں کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہو گیا جو 1947ء تک عروج پر پہنچ گیا اور صورتحال برطانیہ کیلئے مشکل ہوگئی تو اس نے معاملہ اقوام متحدہ کے سپرد کر دیا۔ فلسطین کا تنازع اور پاکستان کی عمر تقریباً برابر ہے۔ اس عالمی تنازع کا جنم 29 نومبر 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے منظور ہونے والی قرارداد نمبر 181 سے ہوا‘ جس کے تحت پہلی بار دو ریاستی حل کے طور پر فلسطین کو مسلمان اور یہودی آبادی میں تقسیم کیا گیا۔ اس قرارداد کے حق میں امریکہ‘ فرانس اور اس وقت کی سوویت یونین (آج کے روس) سمیت 33 ممالک نے ووٹ دیا‘ پاکستان‘ سعودی عرب اور ایران سمیت 13 مسلم ریاستوں نے اسرائیلی ریاست کے خلاف ووٹ دیا‘ جبکہ برطانیہ سمیت دس ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اس قرارداد کے تحت یہودی جو 1947ء میں مجموعی فلسطینی آبادی کا 31 فیصد تھے‘ کو فلسطین کا 56 فیصد علاقہ دے دیا گیا اور 69 فیصد اکثریتی آبادی کے حصے میں فلسطین کا 43 فیصد علاقہ آیا‘ جس میں مغربی کنارہ‘ غزہ اور وسطی فلسطین کے علاقے شامل تھے جبکہ یروشلم کو 10 سال کیلئے اقوام متحدہ کے زیر انتظام بین الاقوامی شہر قرار دیا گیا۔ فلسطین کے اس بٹوارے کے نتیجے میں پوری اسلامی دنیا میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی اور یہودیوں اور عرب مسلمانوں میں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ اسی دوران 14 مئی 1948ء کو اسرائیل نے اپنے آپ کو ایک الگ ملک ڈکلیئر کر دیا۔ اسرائیل کی اس کھلی غنڈی گردی کے نتیجے میں پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی لیکن اس کا نتیجہ مسلمانوں کے خلاف نکلا اور اسرائیل نے رملہ‘ عسقلان اور یافا سمیت مزید علاقوں پر قبضہ کر کے مجموعی فلسطین کے 78 فیصد رقبے پر تسلط جما لیا۔
1949ء کے جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ کا کنٹرول مصر کے حوالے کر دیا گیا لیکن اس جنگ کا ایک اور نتیجہ یہ نکلا کہ لگ بھگ سات لاکھ فلسطینیوں کو مقبوضہ علاقوں سے بے گھر کر دیا گیا۔ 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ سے پہلے تک یہ قبضہ برقرار رہا لیکن اس جنگ کے خاتمے پر دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے اور مشرقی یروشلم (القدس سمیت) اردن سے اور غزہ کی پٹی مصر سے چھن گئی۔ اسرائیلی فوج نے ان نئے مقبوضہ علاقوں میں چوکیاں قائم کر لیں۔ اسرائیل کے اس جبر کے خلاف 1987ء میں یاسر عرفات کی پی ایل او کے علاوہ 1988ء میں جنم لینے والی حماس نے پہلی مسلح تحریک (انتفادہ) شروع کی جس کے تحت فلسطینی نوجوان نے غلیلوں اور پتھروں سے اسرائیلی قابض فوجیوں پر حملے شروع کئے۔ اس تحریک نے اسرائیل کو زچ کر دیا تو وہ 1993ء میں اوسلو معاہدے پر مجبور ہو گیا جو پی ایل او اور اسرائیلی حکومت کے مابین ہوا تھا۔ معاہدۂ اوسلو کے نتیجے میں ایک خود مختار فلسطینی اتھارٹی کو تسلیم کر لیا گیا جس نے غزہ اور مغربی کنارے کے کچھ حصوں کا انتظام سنبھال لیا اور بین الاقوامی سطح پر فلسطین کی آزاد ریاست کی بنیاد پڑ گئی۔
کہانی آگے بڑھتے ہوئے 2005ء تک پہنچی تو اُس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون نے غزہ سے ڈس انگیجمنٹ کرتے ہوئے فوج اور آبادکار واپس بلا لیے۔ 2023ء میں حماس نے طوفان الاقصیٰ کے نام سے اسرائیل پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج کی غزہ پر مسلسل بمباری کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے نتیجے میں غزہ کا تمام شہری ڈھانچہ ملبے کا ڈھیر بن گیا اور 70 ہزار فلسطینی شہید ہو گئے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے 13 نومبر 2025ء کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں غزہ سیز فائر کی قرارداد کا مسودہ جمع کرایا تو پاکستان سمیت اسلامی دنیا نے اس پر مؤقف دیا ہے کہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد‘ خود مختار فلسطینی ریاست اور القدس شریف بطور دارالحکومت تسلیم کئے بغیر کوئی بات نہیں ہو گی۔ اس مؤقف کے بعد صدر ٹرمپ نے ترمیم شدہ قرارداد جمع کرا دی جس میں اہم ترین جملہ ''A credible pathway to Palestinian self-determination and statehood‘‘ شامل کیا گیا۔ 1933ء کے بین الاقوامی Montevideo Convention کے تحت سٹیٹ ہڈ یا ریاست کے معنی کسی متعین علاقے میں مستقل آبادی‘ مؤثر خودمختار حکومت جو بین الاقوامی سطح پر تعلقات قائم کرنے کی مجاز اور صلاحیت رکھتی ہو کے ہیں۔ مطلب یہ کہ ٹرمپ نے اپنی قرارداد میں آزاد فلسطین ریاست کی گارنٹی دی ہے۔ سلامتی کونسل کی اس قرارداد کے حق میں 15 ارکان میں سے پاکستان‘ الجزائر اور صومالیہ کے علاوہ امریکہ‘ برطانیہ‘ فرانس سمیت 13 ممالک نے ووٹ دیا لیکن دو مستقل ارکان چین اور روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا‘ لیکن اس سے قبل روس نے بھی جو ڈرافٹ قراردادِ ٹرمپ کے مقابلے میں جمع کرایا تھا اس میں امن کے ساتھ ساتھ 1967ء کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطین ریاست کی حمایت بھی شامل تھی۔
صدر ٹرمپ کے امن بورڈ اور انٹرنیشنل سٹیبلائزشن فورس کے ساتھ غزہ کے انتظام کو عملی طور پر چلانے کیلئے اقوام متحدہ کے سابق ایلچی نکولی ملاڈنوو کی سربراہی میں ایگزیکٹو بورڈ تشکیل دیا گیا ہے جس میں ترکیہ کے وزیر خارجہ‘ مصر کے ڈی جی انٹیلی جنس اور قطر کے ڈپلومیٹ بھی شامل ہیں۔ ان انتظامات کو دیکھتے ہوئے نہ صرف پاکستان نے امن بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے بلکہ ترکیہ‘ سعودی عرب‘ قطر‘ متحدہ عرب امارات‘ انڈونیشیا‘ اردن‘ آذربائیجان اور مصر بھی اس بورڈ میں شامل ہیں۔ دیگر ممالک میں روسی صدر ولادیمیر پوتن کا یہ بیان کہ انہوں نے بورڈ میں شمولیت کو مسترد نہیں کیا بلکہ صدر ٹرمپ کی دعوت پر غور کر رہے ہیں اس لحاظ سے حوصلہ افزا ہے کہ وہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل فلسطین کے حمایتی ہیں۔ غزہ کی بحالی کا منصوبہ کم از کم 70 ارب ڈالر کا متقاضی ہے جس کیلئے امن بورڈ نے عالمی بینک کے صدر سمیت بڑے بین الاقوامی سرمایہ داروں کو آن بورڈ لیا ہے۔ ان سب باتوں کے بعد یہ زمینی حقیقت چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ گزشتہ 78 سال سے زائد کی تمام مسلح کوششیں اور مہمات مظلوم فلسطینیوں کو عملی طور پر نہ آزادی دلا سکیں نہ اُن کی آنکھوں سے بہنے والے خون کے آنسوؤں کا مداوا کر سکیں تو ٹرمپ کے امن بورڈ کو دو سال کیلئے موقع کیوں نہ دیا جائے۔