متنازعہ ٹویٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 17 ،17 سال قید کا حکم

اسلام آباد:(دنیا نیوز) وفاقی دارالحکومت کی ضلعی عدلیہ نے متنازعہ ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنا دی۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازعہ ٹویٹس کیس کا فیصلہ سنایا۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے آج عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا، جب کہ عدالت عالیہ نے آج کے دن تک ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گواہان پر جرح کا حکم دے رکھا تھا، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دیگر کیس میں جوڈیشل ریمانڈ کے باعث بذریعہ ویڈیو لنک پیش کیا گیا۔

کیس میں پراسکیوشن کی جانب سے بیرسٹر فہد، عثمان رانا، بیرسٹر منصور اعظم عدالت میں پیش ہوئے، ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے سٹیٹ کونسل تیمور جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئے جب کہ پراسکیوشن کی جانب سے کیس میں مجموعی طور پر 5 گواہان پیش کئے گئے۔

اِسی طرح پراسکیوشن کی جانب سے 30 صفحات سے زائد پر مشتمل چالان عدالت میں پیش کیا گیا، ایمان مزاری اور ہادی علی پر پی ٹی ایم، ودیگر کالعدم تنظیموں کا ایجنڈا پھیلانے کا الزام تھا، ملزمان پر ریاستی اداروں کیخلاف مواد کی تشہیر کا بھی الزام تھا۔

پراسکیوشن کی جانب سے چالان میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی مختلف ٹویٹس بھی بطور ثبوت فراہم کی تھی، ایمان مزاری کی ریاست مخالف تقریر بھی عدالت میں پیش کی گئی تھی۔

عدالت نے پیکا ایکٹ کے سیکشن 9 کے تحت ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کوسات،سات سال قید کی سزا جب کہ سیکشن دس کے تحت ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو دس دس سال اور 26 اے کے تحت 2، 2 سال قید کی سزا سنائی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں