فیصل آباد : ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کی شدت میں اضافہ
مضرِ صحت دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائیاں نہ ہونے سے شہری مختلف بیماریوں کا شکار، متعلقہ ادارے مبینہ طور پر بھاری نذرانے وصول کرکے خاموش
فیصل آباد (عبدالباسط سے )صنعتی شہر فیصل آباد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کی شدت میں اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا، مختلف علاقوں میں قائم کالا اور مضرِ صحت دھواں چھوڑنے والی فیکٹریوں اور انڈسٹریز کے خلاف محکمہ ماحولیات اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے کارروائیاں نہ ہونے پر علاقہ مکین اور دیگر شہری مختلف بیماریوں کا شکار بننے لگے ، متعلقہ ادارے مبینہ طور پر بھاری نذرانے وصول کرکے خاموش۔ذرائع کے مطابق فیصل آباد کے مختلف علاقوں میں لاکھوں کی تعداد میں ٹیکسٹائل، ڈائنگ، ویونگ، فوڈ، کیمیکل، پاور لومز، ڈھلائی یونٹس اور دیگر انڈسٹریز، فیکٹریاں، صنعتی یونٹس اور دیگر ملز قائم ہیں، ان میں سے سینکڑوں ملز، فیکٹریوں، صنعتی یونٹس اور دیگر انڈسٹریز سے مختلف طریقوں سے نکلنے والی ویسٹ ماحولیاتی آلودگی کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے ، چمنیوں سے نکلنے والا سیاہ اور مضرِ صحت دھواں نہ صرف ماحول کو آلودہ کر رہا ہے بلکہ شہریوں کو سانس، جلد اور گلے کی بیماریوں سمیت مختلف موذی امراض کا شکار بھی بنا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق بٹالہ کالونی، مقبول روڈ غلام محمد آباد، علامہ اقبال کالونی، ستیانہ روڈ، جڑانوالہ روڈ، منصور آباد، کینال روڈ، جھمرہ روڈ، ڈی ٹائپ کالونی، سمندری روڈ، سمن آباد، نوابانوالہ، سرگودھا روڈ، نڑوالا روڈ، ملت روڈ اور سمال اسٹیٹ روڈ سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں قائم انڈسٹریز، فیکٹریاں اور دیگر صنعتی یونٹس رہائشی علاقوں کے بیچ آ چکے ہیں، جس کی وجہ سے علاقہ مکین مختلف بیماریوں کا شکار بنتے جا رہے ہیں۔ ان یونٹس سے نکلنے والا کالا اور مضرِ صحت دھواں، کیمیکل زدہ پانی اور دیگر اقسام کے فضلات ماحولیاتی آلودگی کے پھیلاؤ اور سموگ کی شدت میں اضافے کا بھی سبب بن رہے ہیں۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے والے یونٹس کے خلاف محکمہ ماحولیات نے کارروائیاں کرنے کی بجائے بھاری نذرانوں کے عوض خاموشی اختیار کر رکھی ہے ۔ شہریوں کی جانب سے متعدد بار شکایات کا اندراج کروائے جانے کے باوجود بھی محکمہ ماحولیات اور دیگر متعلقہ اداروں کی جانب سے کارروائیاں نہیں کی جا رہیں۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑھتی ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ انہیں صحت افزا ماحول میسر آ سکے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments