وزیرآباد کو میونسپل کمیٹی کے بجائے کار پوریشن بنانے کا مطالبہ

 وزیرآباد کو میونسپل کمیٹی کے بجائے کار پوریشن بنانے کا مطالبہ

شہری آ بادی 2 لاکھ سے زیادہ ہوتو کارپوریشن بنانا قانوناً ناگزیر :فیاض چٹھہ و دیگر

وزیرآباد(ڈسٹرکٹ رپورٹر )سابق سٹی ڈسٹرکٹ ناظم گوجرانوالہ فیاض چٹھہ اور سابق ناظمین یونین کونسل ضلع وزیرآباد خالد مغل اور سیٹھ باور بشیر نے پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025 آئینِ پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ کے طے شدہ اصولوں کی روشنی میں پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وزیرآباد کو میونسپل کمیٹی کے بجائے میونسپل کارپوریشن کا درجہ دیا جائے کیونکہ ضلع بننے کے بعد شہری آبادی کا حقیقی حجم تیز رفتار شہری پھیلاؤ اور متصل اربن علاقوں سوہدرہ، تلواڑہ اور دھونکل کو نظرانداز کرنا صریحاً قانونی اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بل 2025 کے تحت حد بندی اور درجہ بندی محض انتظامی صوابدید نہیں بلکہ ایک لازمی قانونی فریضہ ہے جس میں لفظshallکا استعمال حکومت اور لوکل گورنمنٹ کمیشن کو پابند بناتا ہے کہ وہ زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کریں ۔ فیاض چٹھہ کے مطابق جب مربوط اربن آبادی دو لاکھ سے تجاوز کر جائے تو میونسپل کارپوریشن کا نوٹیفکیشن اختیار نہیں بلکہ قانوناً ناگزیر تقاضا بن جاتا ہے اور اس کے برعکس فیصلہ انتظامی بدنیتی کے زمرے میں آ سکتا ہے ۔ نہوں نے واضح کیا کہ لوکل گورنمنٹ کمیشن اعتراضات پر سپیکنگ آرڈر دینے معروضی وجوہات تحریر کرنے اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کا پابند ہے جبکہ زمینی حقائق کو نظرانداز کرنا عدالتی نظرِ ثانی اور آئینی مداخلت کو دعوت دینے کے مترادف ہوگا ۔ حکومتِ پنجاب کو چاہیے کہ دانشمندی اور ریاستی تسلسل کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرتے ہوئے وزیرآباد کو اس کے جائز اور آئینی شہری مقام پر فائز کرے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں