تحصیل علی پور چٹھہ فعال،مستقل اے سی تعیناتی کا مطالبہ
4 سال گزرنے کے با وجود انتظامی اور مالی خودمختاری حاصل نہیں ہو سکی:محمد رضا
علی پورچٹھہ (تحصیل رپورٹر )تحریک تحصیل علی پورچٹھہ کے بانی محمد رضا مل ایڈووکیٹ نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل کو مکمل طور پر فعال بنانے کیلئے فوری طور پر بجٹ کی منظوری دی جائے ، مستقل اسسٹنٹ کمشنر تعینات کیا جائے اور مختلف سرکاری محکموں کے انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر کام کا آغاز کیا جائے ۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ضلع وزیرآباد اور تحصیل علی پورچٹھہ کا نوٹیفکیشن جاری ہوئے تقریباً 4سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج بھی تحصیل کو مکمل انتظامی اور مالی خودمختاری حاصل نہیں ہو سکی۔
انہوں نے کہا کہ تحصیل کا درجہ ملنے کے بعد عوام کو توقع تھی کہ سرکاری دفاتر، انتظامی ڈھانچہ، بنیادی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں میں نمایاں بہتری آئے گی مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحصیل علی پورچٹھہ کے لیے ریونیو، بلڈنگز، صحت، تعلیم، زراعت، سوشل ویلفیئر، لوکل گورنمنٹ، ہائی ویز، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، سول ڈیفنس اور دیگر تقریباً 20 اہم سرکاری محکموں کے دفاتر اور انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی اور فزیبلٹی پر فوری کام شروع کیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو اپنے مسائل کے حل کیلئے دوسرے شہروں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ محمد رضا مل ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کئی ایسی تحصیلیں اور اضلاع بھی ہیں جنہیں علی پورچٹھہ کے بعد نوٹیفائی کیا گیا لیکن وہاں انتظامی ڈھانچہ فعال ہو چکا ہے دفاتر کام کر رہے ہیں اور عوام کو سہولیات میسر ہیں جبکہ علی پورچٹھہ آج بھی بنیادی انتظامی سہولیات سے محروم ہے ۔