جہلم پر پل نہ بننے پر ملکوال ،پنڈ دادنخان رہائشی مایوس

 جہلم پر پل نہ بننے پر ملکوال ،پنڈ دادنخان رہائشی مایوس

وزیر اعلیٰ مریم نواز کے دورہ منڈی بہائولالدین کے دوران اعلان متوقع تھا

ملکوال(نمائندہ دنیا )وزیر اعلیٰ مریم نواز کے دورہ منڈی بہا ئو الدین میں ملکوال اور پنڈدادنخان کے رہائشی دریائے جہلم پر ٹریفک پل کے منصوبے کا اعلان نہ ہونے پر مایوسی کا شکار ہو گئے ۔ ملکوال اور پنڈدادنخان کے درمیان دریائے جہلم پر پل بننے کی صورت میں دونوں تحصیلوں کے درمیان زمینی فاصلہ محض 10 کلومیٹر رہ جائیگا ،موجودہ صورتحال میں لوگوں کو براستہ منڈی بہا ئوالدین ہیڈ رسول 80 کلومیٹر سے زائد جبکہ براستہ بھیرہ اور للہ موٹر وے انٹرچینج سے قریباً 70 کلومیٹر فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے جس سے وقت اور اخراجات کا ضیاع ہو رہا ہے ۔ قبل ازیں ملکوال سے پنڈدادنخان ریلوے ٹرین کے ذریعے دونوں تحصیلوں کے ہزاروں مسافر روزانہ سفر کرتے تھے لیکن ریلوے کی جانب سے ٹرین سروس مکمل طور پر بند کئے جانے کے باعث سفری سہولت ختم ہو چکی ہے۔

جلدی جانے کیلئے لوگ چک نظام اور بھاگووال پتن کے مقام پر بیڑے پر اپنی گاڑیاں لوڈ کرکے خطرناک طریقے سے دریا عبور کر کے جاتے ہیں۔ دریائی بیڑے کا سفر انتہائی خطرناک ، حادثات میں کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔واضح رہے کہ چک نظام کے مقام پر آصف زرداری اور میاں شہباز شریف سمیت دو صدور مملکت اور دو وزرائے اعظم سمیت کئی حکومتی شخصیات پل کا باقاعدہ افتتاح کر چکی ہیں لیکن بدقسمتی سے تعمیراتی کام شروع نہ ہو سکا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز کے دور حکومت کے ابتدائی مہینوں میں بھاگووال پتن کے مقام پر بیڑے کے ذریعے عبور کرتے گاڑی دریا میں گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد جاں بحق ہو گئے تھے ۔ اس واقعہ پر وزیر اعلیٰ مریم نواز نے نوٹس لیتے ہوئے دریائے جہلم پر پل بنانے کیلئے متعلقہ اداروں اور حکام سے رپورٹ طلب کی تھی۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...