امریکی کانگریس پر کس کا کنٹرول ہوگا؟ وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے
واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی وسط مدتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس نے اب تک 37 جبکہ ریپبلکنز نے 17 نشستیں جیت لی ہیں، سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس نے 8 نشستوں پر میدان مار لیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق کینٹکی کے ڈسٹرکٹ 5 سے ری پبلکن امیدوار ہال راجرز نے ایوان نمائندگان کی نشست جیت لی، جبکہ ڈسٹرکٹ 3 سے ڈیموکریٹ امیدوار مورگن میک گیروی کامیاب قرار پائے۔
امریکی ریاست ورجینیا میں مارک کارنر نے سینیٹ کی نشست اپنے نام کی، فلوریڈا کے ڈسٹرکٹ 19 سے ری پبلکن امیدوار جم شوارٹزل ایوان نمائندگان کی نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
فلوریڈا کے ڈسٹرکٹ 12 سے ڈیموکریٹ امیدوار ڈیبی واسرمین شلٹز نے ری پبلکن حریف برینٹ اینڈرسن کو شکست دے کر 12ویں بار کانگریس کی رکن منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
جارجیا کے ڈسٹرکٹ 5 اور 13 سے بھی ڈیموکریٹ امیدوار کامیاب ہوئے، ڈسٹرکٹ 5 سے نکیما ولیمز جبکہ ڈسٹرکٹ 13 سے جیسمین کلارک نے ایوان نمائندگان کی نشستیں جیت لیں۔
جارجیا کے ڈسٹرکٹ 6 سے ڈیموکریٹ امیدوار لوسی میکبتھ کامیاب قرار پائیں، جبکہ ڈسٹرکٹ 4 کی نشست ہینک جانسن نے جیت لی، جارجیا کے ڈسٹرکٹ 23 سے بھی ڈیموکریٹ امیدوار لوئس فرینکل کامیاب ہوئیں۔
اسی طرح ورمونٹ کے ڈسٹرکٹ 1 سے ڈیموکریٹ امیدوار بیکا بالنٹ نے ری پبلکن حریف کو شکست دے کر ایوان نمائندگان کی نشست اپنے نام کرلی۔
امریکی ریاست اوہائیو میں ایوان نمائندگان کی 3 نشستوں پر بھی ڈیموکریٹس نے کامیابی حاصل کر لی، ڈیموکریٹس نے جارجیا سے سینیٹ کی نشست جیت لی، جہاں ڈیموکریٹ امیدوار جان اوسوف کامیاب قرار پائے۔
فلوریڈا میں ایوان نمائندگان کی نشستوں پر ڈیموکریٹس نے 4 جبکہ ریپبلکنز نے پ5 نشستیں جیت لیں، ڈیموکریٹس نے ڈیلاویئر، نیوجرسی، رہوڈ آئی لینڈ، میساچوسٹس اور الینوائے سے سینیٹ کی نشستیں بھی اپنے نام کر لیں۔
واضح رہے کہ انتخابی نتائج کے ذریعے یہ فیصلہ ہوگا کہ کانگریس کے ایوان نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول کس جماعت کے پاس رہے گا، جبکہ نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آئندہ 2 سالہ حکومتی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہوں گے۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments