گلیشیائی جھیلوں کے تباہ کن اثرات کی کوریج:واقعاتی،محدود رہی
76.8فیصد خبریں مسائل تک ، طویل المدتی لچک پر توجہ نہ دی گئی ،رپورٹ
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب اور ان کے تباہ کن اثرات کی کوریج زیادہ تر واقعاتی اور محدود نوعیت کی رہی جبکہ 76.8فیصد خبریں مسئلے کی نشاندہی تک محدود رہیں اور تیاری، ابتدائی انتباہ، موسمیاتی موافقت اور طویل المدتی لچک جیسے حل پر خاطر خواہ توجہ نہ دی گئی۔ ایک نئی تحقیق کی موسمیاتی پالیسی کے ماہر اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ایم فل ریسرچ سکالر سلیم شیخ نے کی، سلیم شیخ کے مطابق پاکستان کے قومی اخبارات میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے آنے والے سیلاب کی فریمنگ\'\' کے عنوان سے کی جانے والی تحقیق میں کوریج کی تعداد، اہمیت، موضوعات، فریمنگ اور مسائل یا حل پر مبنی نوعیت کا جائزہ لیا گیا۔
تحقیق میں دو سو سات خبریں، اداریے اور مضامین شامل تھے ۔تحقیق کے مطابق جی ایل او ایف کی کوریج میں اس وقت اضافہ ہوا جب واقعات رونما ہوئے ، جبکہ خطرات میں کمی، پیشگی تیاری، ابتدائی انتباہ اور موسمیاتی موافقت پر مسلسل توجہ کم رہی۔ تحقیق کے نگران پروفیسر ڈاکٹر ثاقب ریاض نے کہا کہ جی ایل او ایف کو صرف آفات سے نمٹنے کا مسئلہ نہیں بلکہ ابلاغ کا چیلنج بھی سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ان کے مطابق میڈیا کو واقعاتی رپورٹنگ سے آگے بڑھ کر مسلسل، مقامی تناظر اور حل پر مبنی کوریج کی طرف جانا چاہیے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments