جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑھتے اخراجات عالمی معاشی نمو کیلئے خطرہ
ایشیا پیسیفک میں 41فیصد ماہرین کو شرح سود بڑھنے کی توقع، کاروباری اعتماد میں کمی ،سروے
اسلام (دنیا رپورٹ )جغرافیائی سیاسی عدم استحکام، توانائی کی بڑھتی قیمتیں اور کاروباری اخراجات میں مسلسل اضافہ عالمی معاشی نمو کے لیے اہم خطرات بن رہے ہیں، تاہم ایشیا پیسیفک میں کاروباری سرگرمیوں اور نئے آرڈرز میں بہتری دیکھی گئی ہے ۔ یہ انکشاف ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس (ACCA) اور انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس (IMA) کے تازہ سروے میں ہوا ہے ۔سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے گلوبل اکنامک کنڈیشنز سروے کے مطابق ایشیا پیسیفک میں نئے کاروباری آرڈرز کا اشاریہ مسلسل دوسری سہ ماہی میں بہتر ہوا اور سروے کی تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔ سرمایہ جاتی اخراجات اور روزگار کے اشاریوں میں بھی بہتری ریکارڈ کی گئی۔
تاہم، خطے میں اکاؤنٹنٹس کا کاروباری اعتماد تیسری سہ ماہی میں نمایاں طور پر کم ہوا اور دوسری سہ ماہی میں ہونے والے اضافے کا تقریباً تین پانچواں حصہ واپس ہو گیا۔ رپورٹ کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی کی بلند قیمتیں اس کمی کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں۔ سروے میں ایشیا پیسیفک کے 24.1 فیصد مالیاتی ماہرین نے جغرافیائی سیاسی عدم استحکام کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا، جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح 18.4 فیصد رہی۔ ہنرمند افرادی قوت کی کمی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کو بھی خطے میں اہم خطرات سمجھا گیا۔آئی ایم اے (IMA) کے سینئر ڈائریکٹر الین مولڈر نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری عالمی نمو کو سہارا دے رہی ہے ، جبکہ مہنگائی، توانائی کی بلند قیمتیں اور سرکاری بانڈز پر بڑھتی شرح منافع معاشی سرگرمیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments