نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- امریکامیں مہنگائی کارجحان توقع سےزیادہ دیرجاری رہ سکتاہے،امریکی فیڈرل ریزرو
  • بریکنگ :- کوروناکےبعدسپلائی چین تاحال متاثرہے،سربراہ امریکی فیڈرل ریزرو
  • بریکنگ :- امریکی کمپنیوں کونئی ملازمتیں دینےمیں مشکلات کاسامناہے،جیرم پاؤل
Coronavirus Updates

زندہ جلائی جانے والی خاتون اسپتال میں چل بسی

زندہ جلائی جانے والی خاتون اسپتال میں چل بسی

دنیا اخبار

پولیس نے مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کرلیاسوتیلی والدہ، بھائی اور سگے والد نے مل کر کنول کو جلایا، مدعی مقدمہ

کراچی (اسٹاف رپورٹر) گلستان جوہر میں دو روز قبل مبینہ طور پر زندہ جلائی جانیوالی خاتون دوران علاج چل بسی۔ پولیس نے مقتولہ کے بھائی کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کرلیا۔تفصیلات کے مطابق شارع فیصل کے علاقے گلستان جوہر پہلوان گوٹھ کی رہائشی 33 سالہ کنول جاوید کو مبینہ طورپر2 دن قبل مٹی کا تیل چھڑک کرزندہ جلا دیا گیا تھا اور طبی امداد کیلئے سول اسپتال کے برنس وارڈ پہنچایا گیا تھا، جہاں وہ پیرکو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔ شارع فیصل پولیس نے قتل کا مقدمہ دفعہ تین سو دو کے تحت مقتولہ کے بھائی عبدالقادر کی مدعیت میں مقدمہ الزام نمبر982/2021 درج کرلیا۔ مدعی مقدمہ نے الزام عائد کیا کہ31جولائی کو سوتیلی والدہ، بھائی اور سگے والد نے مل کر کنول کو جلایا، میری بہن پر پہلے بھی تشدد کے واقعات ہوتے رہتے تھے۔ مقتولہ کے بھائی اور مدعی مقدمہ عبدالقادر نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس کا کہنا ہے کہ میری بہن نے خود کو آگ لگائی، پولیس کہتی ہے کہ یہ بیان خود مقتولہ نے مرنے سے قبل دیا۔ عبدالقادر نے پولیس کے بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میری بہن توجل چکی تھی، وہ کیسے بیان دے سکتی تھی؟ اس کا جسم اور ہونٹ مکمل طور پر جل چکا تھا، فنگر پرنٹ کہاں سے آئے؟۔ مقتولہ کے بھائی نے بتایا کہ پیرکی دوپہر بہن کا پوسٹ مارٹم کرالیا ہے، رپورٹ آنے کے بعد صورت حال مزید واضح ہوجائے گی۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں