نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- این اے 133ضمنی الیکشن،مسلم لیگ (ن) نےمیدان مارلیا
  • بریکنگ :- لاہور:تمام 254پولنگ اسٹیشنزکےغیرحتمی غیرسرکاری نتائج
  • بریکنگ :- مسلم لیگ(ن)کی شائستہ پرویزملک 46 ہزار811 ووٹ لےکرکامیاب
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کےاسلم گل 32 ہزار313 ووٹ لےکردوسرےنمبرپررہے
  • بریکنگ :- شائستہ پرویزملک نے 14ہزار498ووٹوں سے اسلم گل کو شکست دی
  • بریکنگ :- 4لاکھ 40ہزار485ووٹوں میں سے 80ہزار997ووٹ کاسٹ ہوئے
  • بریکنگ :- لاہور:این اے 133 میں ٹرن آؤٹ 18.59 فیصدرہا
  • بریکنگ :- 50ہزار936مرداور30ہزار959خواتین نےووٹ کاسٹ کیا،898ووٹ مسترد
  • بریکنگ :- لاہور:9امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہوگئیں
  • بریکنگ :- نشست (ن)لیگ کےپرویزملک کی وفات کےباعث خالی ہوئی تھی
Coronavirus Updates

سندھ بورڈ میں ناظمین امتحانات کیلئے تمام امیدوار نا اہل، سرچ کمیٹی نے نام مسترد کردیے

سندھ بورڈ میں ناظمین امتحانات کیلئے تمام امیدوار نا اہل، سرچ کمیٹی نے نام مسترد کردیے

دنیا اخبار

فیصلہ کمیٹی کی جانب سے منعقدہ انٹرویوز کے بعد کیا گیا، منتخب امیدواروں میں سے اکثر کے پاس ناظم امتحانات کے امور سے متعلق معلومات ہی نہیں تھیں، نئے اشتہار کی سفارش

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ کے تعلیمی بورڈز میں ناظمین امتحانات کی تقرری کے سلسلے میں امیدواروں کے انٹرویوز کے بعد سرچ کمیٹی نے تمام امیدواروں کو نااہل کرتے ہوئے ان کے نام مسترد کردیے۔ کنٹرولنگ اتھارٹی سے کراچی سمیت پورے سندھ کے تعلیمی بورڈز میں کنٹرولر آف ایگزامنیشن کی اسامی کے لیے نئے اشتہار جاری کرنے اور اس کی بنیاد پر بھرتیوں کی سفارش کی جارہی ہے۔ اس بات کا فیصلہ ڈاکٹر قدیر راجپوت کی کنوینر شپ میں سرچ کمیٹی کی جانب سے منعقدہ انٹرویوز کے بعد کیا گیا ہے۔ محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کی جانب سے دیے گئے اشتہار کے مطابق جو امیدوار انٹرویوز کے لیے منتخب کیے گئے تھے ان میں سے اکثر کے پاس ناظم امتحانات کے امور سے متعلق معلومات ہی نہیں تھیں اور بی ایڈ و ایم ایڈ امیدواروں میں سے اکثر انتظامی سے زیادہ تدریسی تجربے پر انحصار کررہے تھے۔ یاد رہے کہ سابق سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے پہلے ہی اس اسامی کے لیے جو اشتہار جاری کیا تھا وہ سندھ کے تعلیمی بورڈز کے بھرتی کے قوانین ریکروٹمنٹ رولزکے برخلاف تھا۔ جو اشتہار دیا گیا تھا اس میں تعلیم کی شرط بی ایڈ اورایم ایڈ کردی گئی تھی۔ امیدوار کی ماسٹرز ڈگری کے ساتھ ساتھ اس کا بی ایڈ یا ایم ایڈ ہونا بھی لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اس کے برعکس سندھ اسمبلی سے منظور شدہ ایکٹ کے تحت بورڈ کے قوانین میں ناظم امتحانات اور سیکریٹری کی تقرری کے لیے ضروری ہے کہ امیدوار ماسٹرز ڈگری ہولڈر یا پھر دوسری صورت میں بی اے، بی ایڈ کے ساتھ 10 سال کا انتظامی یا تدریسی تجربہ ہو۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں