منور چورنگی انڈر پاس ایک سال میں صرف 40فیصد مکمل
سست روی سے ٹریفک جام، گرد و غبار اورراستوں کی بندش جیسے مسائل بڑھ گئے منصوبہ زحمت بن گیا ،اب تک پنجاب میں 3 انڈر پاسز بن جاتے ،شہریوں کا ردعمل
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)گلستان جوہرمنور چورنگی انڈر پاس (زیریں گزر گاہ)کا تعمیراتی کام سست روی کا شکار ہے ۔ ایک سال گزرنے کے باوجود صرف40 فیصد مکمل ہو سکا ، تعمیراتی کاموں میں سست روی کے باعث رمضان المبارک میں شہریوں کو ٹریفک جام، گرد و غبار اور راستوں کی بندش جیسی شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ۔مین سڑکوں کی کھدائی اور تعمیرات کے باعث روزے داروں کیلئے سفر کرنا مشکل ہوگیا ہے،شہری منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرنے پر مجبور ہیں۔ راستوں کی بندش ،متبادل راستے نہ ہونے یا طویل ہونے کی وجہ سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے ۔ گلستانِ جوہر منور چورنگی پر صرف 490 میٹر کا انڈر پاس کی لاگت ایک ارب48کروڑ لگایا گیا ہے ۔گلستان جوہر کے رہائشیوں نے کہاہے کہ گلستان جوہر منور چورنگی پر انڈر پاس نعمت کے بجائے زحمت بن گیا ، ٹریفک جام اور حادثات روز کا معمول بنے ہوئے ہیں۔ شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ اسی ایک سال کے دوران پنجاب میں اب تک تین انڈر پاسز بن چکے ہیں۔سندھ حکومت کی رفتار کو دیکھ کر تو یہی شک گزرتا ہے کہ پنجاب کے انڈر پاسز جنوں سے بنوائے جا رہے ہیں۔اب تو حال یہ ہے کہ میئر مرتضیٰ وہاب کوئی بھی ترقیاتی کام کرنے اعلان کرتے ہیں تو عوام بجائے خوش ہونے کے شدید ڈپریشن میں چلی جاتی ہے ۔کے ڈی اے کو چاہیے کہ رمضان المبارک کے پیش نظر تعمیراتی کاموں کو تیز کرے ۔ واضح رہے کہ منور چورنگی انڈر پاس کا با ضابطہ تعمیراتی کام 6 فروری 2025 کو شروع ہوا تھا ۔