ایس بی سی اے کو فعال بنانے کیلئے جامع اصلاحات کا اعلان

ایس  بی  سی  اے  کو  فعال  بنانے  کیلئے  جامع  اصلاحات  کا  اعلان

جدید ڈرون سرویلنس ٹیکنالوجی کے ذریعے ریئل ٹائم بنیادوں پر غیرقانونی تعمیرات کی نشاندہی کی جائے گی وزیر بلدیات کا غیرقانونی تعمیرات کا نوٹس ،خصوصی انسدادِ غیرقانونی تعمیرات ٹاسک فورس قائم کرنے کی ہدایت

کراچی (اے پی پی)حکومتِ سندھ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے ) کو موثر، شفاف اور فعال ادارہ بنانے کیلئے جامع اصلاحات کا اعلان کر دیا ہے ۔صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ سندھ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور شہری انفراسٹرکچر کی مضبوطی کے لیے ریگولیٹری نگرانی کو موثر بنانے اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے پرعزم ہے ۔کراچی میں غیرقانونی تعمیرات کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی وزیر نے فوری طور پر خصوصی انسدادِ غیرقانونی تعمیرات ٹاسک فورس قائم کرنے کی ہدایت جاری کی۔انہوں نے کہا کہ یہ ٹاسک فورس غیر مجاز تعمیرات کی نشاندہی، نگرانی اور مسماری کے عمل کو یقینی بنائے گی، جدید ڈرون سرویلنس ٹیکنالوجی کے ذریعے ریئل ٹائم بنیادوں پر غیرقانونی تعمیرات کی نشاندہی کی جائے گی جبکہ گنجان آباد علاقوں میں ڈرون سروے لازمی قرار دیے جائیں گے تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے ۔ صوبائی وزیر نے واضح کیا کہ غیرقانونی اضافی پورشنز اور غیر محفوظ ڈھانچے انسانی جانوں کے لیے خطرہ ہیں اور کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے ۔

ادارہ جاتی اصلاحات کے تحت حکومت نے سنگل ونڈو سہولت کو ایس بی سی اے کے تمام ریجنز تک توسیع دینے کی منظوری دے دی ہے تاکہ عوامی امور کو آسان بنایا جا سکے اور غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ ہو۔ مزید برآں تمام ریجنز میں ہزاروں منظوری فائلوں اور ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل جاری ہے تاکہ ریکارڈ میں رد و بدل کے امکانات ختم کیے جا سکیں، شفافیت کو فروغ دیا جا سکے اور محفوظ ڈیٹا مینجمنٹ یقینی بنائی جا سکے ۔ کیٹگری ون عمارات کی منظوری کا عمل مکمل طور پر آن لائن کر دیا گیا ہے جبکہ کیٹگری ٹو اور تھری کو مرحلہ وار آن لائن نظام میں منتقل کیا جا رہا ہے ۔ کیٹگری فور کی منظوریوں کو بھی ڈیجیٹل نظام کا حصہ بنایا جائے گا اور انہیں ایس-بوس (سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ ) سے منسلک کیا جائے گا، جو حکومتِ سندھ کا ایک اہم ڈیجیٹل اقدام ہے جس کا مقصد کاروباری ضوابط، لائسنسنگ اور پرمٹس کے نظام کو سادہ اور موثر بنانا ہے ۔ اس انضمام سے منظوریوں میں تاخیر میں نمایاں کمی آئے گی اور صوبے میں کاروباری سہولت میں اضافہ ہوگا۔ شہری شمولیت اور شفافیت کے فروغ کے لیے جیو ٹیگڈ کمپلینٹ ٹریکنگ سسٹم متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے ذریعے شہری اپنی شکایات آن لائن درج کر سکیں گے اور ان کی پیش رفت کو ریئل ٹائم میں ٹریک کر سکیں گے ، جس سے جوابدہی اور موثر ردعمل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں