ہائیکورٹ، زیر حراست ملزم کی ہلاکت پردوسری ایف آئی آرغیر قانونی
اصل ایف آئی آرکی بنیاد پرتفتیش کاحکم، پولیس نے ایف آئی اے کامقدمہ چیلنج کیا تھاایف آئی اے کو صرف تفتیش کا اختیار، نئی ایف آئی آر غیر قانونی ہے ، درخواست گزار
کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ نے زیر حراست ملزم کی ہلاکت کے مقدمے میں ایف آئی اے کی درج دوسری ایف آئی آر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیدیا اور حکم دیا کہ اصل ایف آئی آر کی ہی بنیاد پر تفتیش جاری رکھی جائے ۔ سندھ ہائیکورٹ میں اے ایس آئی عابد شاہ نے ایف آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر کو چیلنج کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پہلے ہی تھانہ صدر میں ایف آئی آر نمبر 443/2025 درج ہو چکی تھی، جس کے بعد ایف آئی اے کو صرف تفتیش کا اختیار حاصل تھا، نئی ایف آئی آر درج کرنا قانون کے منافی ہے ۔ درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ مقدمہ زیر حراست شہری محمد عرفان کی ہلاکت سے متعلق ہے جس کی تفتیش ایف آئی اے کے سپرد کی گئی۔ دوسری جانب مدعی مقدمہ کے وکیل جبران ناصر نے مؤقف اپنایا کہ اصل ایف آئی آر میں واقعے کی مکمل تفصیلات شامل نہیں تھیں اور چونکہ معاملہ خصوصی قانون یعنی ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ 2022 کے تحت آتا ہے، اس لیے ایف آئی اے کو ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔ سرکاری وکلا نے بھی مؤقف اختیار کیا کہ قانون کے تحت ایف آئی آر کی منتقلی کے بعد پہلی ایف آئی آر ختم تصور ہوتی ہے اور ایف آئی اے کی ایف آئی آر ہی مؤثر ہے ۔ عدالت نے دلائل اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ایف آئی اے کو صرف تفتیش کا اختیار حاصل ہے، ایف آئی آر درج کرنے کا نہیں۔