وفاقی افسروں کی صوبوں میں تعیناتی غیر قانونی :حکومتی ارکان
گورننس میں بھی خلل ، صوبائی خود مختاری متاثر:تحریک التوا پیش کرنیکی کہانی
لاہور (حمزہ خورشید سے ) پنجاب اسمبلی میں صوبائی آسامیوں پر وفاقی افسران کی تعیناتی کے خلاف تحریک التوا پیش کرنے کے معاملے کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے ۔اسمبلی کے 36ویں اجلاس کے دوران حکومتی رکن احمد اقبال چودھری نے پوائنٹ آف آرڈر پر ایوان کی توجہ اس اہم آئینی اور انتظامی مسئلے کی جانب مبذول کرائی۔ایوان میں ہونے والی بحث کے دوران حکومتی ارکان نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی افسران کی صوبوں میں تعیناتی آئینِ پاکستان اور اٹھارویں آئینی ترمیم کے منافی ہے ، جبکہ اس عمل سے صوبائی گورننس میں بھی شدید خلل پیدا ہو رہا ہے ۔ ارکان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ عمل سے صوبائی خودمختاری متاثر ہو رہی ہے ۔تحریک 13 حکومتی ارکان نے جمع کروائی، جو ایوان میں پیش ہو چکی ہے ،تحریک میں مزید سفارش کی گئی ہے کہ صوبائی انتظامی خودمختاری اور سول سروس اصلاحات سے متعلق ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے ، جو 180 دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے ۔ تحریک التواء کار جمع کروانے والوں میں سمیع اللہ خان، ملک احمد سعید خان، افتخار حسین چھچھر، سعید اکبر خان، احسن رضا خان، امجد علی جاوید، محمد احمد خان لغاری، ذوالفقار علی شاہ اور چودھری جاوید احمد شامل ہیں۔