9اہم شاہراہوں کو جدید ر اہداری میں بدلنے کا منصوبہ فائلوں تک
شاہراہوں سے تجاوزات ختم کرنا، لین مارکنگ کو بہتر بنانا، ٹریفک نظم و ضبط قائم کرنا اور پارکنگ مینجمنٹ کو مؤثر بنانا تھاشہری سہولتوں کیلئے خصوصی اقدامات تجویز تھے ، شاہراہوں پر قائم املاک کو مرحلہ وار قانونی دائرہ کار میں لایا جا رہا :ایل ڈی اے
لاہور (سٹاف رپورٹر سے )شہر کی نو اہم شاہراہوں کو جدید، منظم اور ماحول دوست کوریڈورز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ تاحال مکمل عملدرآمد کا منتظر ہے جبکہ بیشتر اہداف فائلوں تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ایل ڈی اے نے ابتدائی مرحلے میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر پانچ سو سے زائد املاک کو سربمہر کیا تھا۔ متعلقہ پراپرٹی مالکان کی جانب سے بلڈنگز کو قانونی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کیلئے بیان حلفی بھی جمع کرائے گئے ، تاہم دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے باوجود متعدد عمارتوں میں مطلوبہ تبدیلیاں نہ ہو سکیں۔ منصوبے کے تحت ماڈل شاہراہوں سے تجاوزات ختم کرنا، لین مارکنگ کو بہتر بنانا، ٹریفک نظم و ضبط قائم کرنا اور پارکنگ مینجمنٹ کو مؤثر بنانا شامل تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ اقدامات بھی سست روی کا شکار ہو گئے ۔
رہائشی پلاٹس پر جاری کمرشل سرگرمیوں کو روکنے کیلئے بھی مؤثر کارروائی نہ کی جا سکی۔ذرائع کے مطابق نو ماڈل شاہراہوں پر تعمیر ہونے والی متعدد عمارتیں منظور شدہ نقشوں اور بلڈنگ بائی لاز کے مطابق مکمل نہ ہو سکیں جبکہ کئی مقامات پر پارکنگ کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث ٹریفک مسائل مزید شدت اختیار کرتے رہے ۔ماڈل روڈز منصوبے میں مین بلیوارڈ علامہ اقبال ٹاؤن، جوہر ٹاؤن جی ون روڈ ڈاکٹر ہسپتال تا ایکسپو سینٹر، ایم ایم عالم روڈ، منی مارکیٹ تا مین مارکیٹ، مصطفیٰ ٹاؤن مین روڈ، جوبلی ٹاؤن مین روڈ اور ایل ڈی اے ایونیو ون مین روڈ کو شامل کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ شادمان مین روڈ، گارڈن ٹاؤن مین روڈ، کلمہ چوک تا فیصل ٹاؤن، ٹاؤن شپ مین روڈ اور کھوکھر چوک تا ہمدرد چوک روڈ بھی ماڈل کوریڈور منصوبے کا حصہ تھے ، جہاں شہری سہولتوں اور ماحولیاتی بہتری کیلئے خصوصی اقدامات تجویز کیے گئے تھے ۔ دوسری جانب ایل ڈی اے انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ماڈل شاہراہوں پر قائم املاک کو مرحلہ وار قانونی دائرہ کار میں لایا جا رہا ہے ۔