پیما کے 4 ہزار سے زائد سکول مالی مسائل سے دوچار

پیما کے 4 ہزار سے زائد سکول مالی مسائل سے دوچار

اساتذہ کو 3ماہ کی تنخواہیں ادا نہ کی جاسکیں، صرف اکتوبر کی ادائیگیاں کی گئیں

ملتان(خصوصی رپورٹر) پیما کے زیر اہتمام چلنے والے چار ہزار سے زائد سکول مالی مسائل کاشکار،چھ لاکھ بچوں کامستقبل داو پرلگ گیا بتایا گیاہے کہ پنجاب انیشیٹیو مینجمنٹ اتھارٹی (پیماء) کی مبینہ نااہلی کے باعث صوبہ بھر میں قائم 4 ہزار 300 لائسنسی سکولز شدید مالی بحران کا شکار ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں اساتذہ گزشتہ تین ماہ سے تنخواہوں سے محروم چلے آ رہے ہیں۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی نے نہ صرف اساتذہ بلکہ سکول انتظامیہ کو بھی شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے ، جبکہ صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے ۔

اساتذہ اور سکول ذرائع کے مطابق پیماء کی جانب سے لائسنسی سکولوں کو صرف اکتوبر کی ادائیگیاں کی گئیں، تاہم نومبر، دسمبر اور جنوری کے واجبات تاحال ادا نہیں کئے جا سکے ۔ مسلسل تاخیر کے باعث لائسنسی سکولوں سے وابستہ تقریباً 20 ہزار اساتذہ اور دیگر عملہ شدید مالی دباؤ میں آ چکا ہے ، جبکہ متعدد اساتذہ فاقہ کشی پر مجبور ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔متاثرہ اساتذہ کا کہنا ہے کہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے گھریلو اخراجات پورے کرنا ناممکن ہو گیا ہے ، بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے اور روزمرہ زندگی کے بنیادی تقاضے بھی مشکل سے پورے کئے جا رہے ہیں۔ اساتذہ نے نشاندہی کی کہ مالی بحران نے نہ صرف ان کی ذاتی زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ تدریسی عمل بھی دباؤ کا شکار ہو رہا ہے ۔ بعض سکول انتظامیہ نے انتباہ دیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو تدریسی عمل متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ سکولوں کی بندش جیسے انتہائی اقدامات پر بھی غور کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں