مینگو پروسیسنگ ،ڈرائر پلانٹس سے نقصان میں کمی ممکن

مینگو پروسیسنگ ،ڈرائر پلانٹس سے نقصان میں کمی ممکن

پیداوار ضائع ہونے سے بچائی جا سکتی ، اے ڈی سی کی زیر صدارت اجلاس میں جائزہ

مظفرگڑھ (سٹی رپورٹر) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو عوید ارشاد بھٹی کی زیرِ صدارت مظفرگڑھ میں مینگو ویلیو ایڈیشن کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) محمد طاہر محمود بھٹی، سینئر سائنٹسٹ ڈاکٹر مقبول احمد Mango Research Institute Multan، نجی فرمز، مینگو ایکسپورٹرز، ڈرائر کمپنیوں اور پروسیسنگ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت نے بتایا کہ ضلع مظفرگڑھ میں ایک لاکھ نو سو اٹھائیس ایکڑ رقبہ پر آم کی کاشت کی جا رہی ہے جو پورے پنجاب میں سب سے زیادہ ہے ۔ بعد از برداشت نقصان کی شرح تقریباً 20 سے 40 فیصد ہے جسے ویلیو ایڈیشن اور جدید پروسیسنگ کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے ۔ اجلاس میں مینگو پروسیسنگ اور ڈرائر پلانٹس کے قیام کے امکانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا تاکہ پیداوار ضائع ہونے سے بچائی جا سکے اور مقامی معیشت مضبوط ہو۔سینئر سائنٹسٹ نے بتایا کہ ضائع ہونے والی آم کی پیداوار کو محفوظ کر کے قیمتی زرِمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے ۔ مینگو ڈرائر فرم کے نمائندے نے مشینری، لاگت، لیبر کی ضروریات اور پلانٹ کے قیام کے مراحل کی تکنیکی بریفنگ دی اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اجلاس میں شرکاء نے ایکسپورٹ، پروسیسنگ، سرمایہ کاری اور چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اختتام پر اس بات پر اتفاق ہوا کہ مظفرگڑھ میں مینگو پروسیسنگ اور ڈرائر پلانٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ پیداوار کے ضیاع کو کم اور کسانوں کی آمدن میں اضافہ کیا جا سکے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں