لشاری والا جنگل میں پھر آگ بھڑک اٹھی، لاکھوں کا نقصان
کوٹ ادو (ڈسٹرکٹ رپورٹر،نامہ نگار)جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے لشاری والا جنگل میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی، 6 ۔
گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر قابو نہ پایا جا سکا، نایاب پرندوں سمیت لاکھوں مالیت کے درخت اور سرکنڈے جل گئے ، مقامی تنظیموں کا احتجاج۔ تفصیل کے مطابق دریائے سندھ کے مقام ہیڈ تونسہ اور تونسہ بیراج کی اپ سٹریم پر واقع پانچ ہزار ایکڑ پر محیط قدرتی جنگل لشاری والا میں لگنے والی آگ نے شدت اختیار کر لی ہے اور 6 گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا، یہ جنگل مختلف اقسام کے جنگلی جانوروں، ہرن کی نایاب نسل پاڑہ، آبی پرندوں اور دیگر آبی جانداروں کا اہم مسکن سمجھا جاتا ہے تاہم آگ کے باعث لاکھوں مالیت کے درخت اور وسیع رقبے پر موجود سرکنڈا جل کر خاکستر ہو گیا، عینی شاہدین کے مطابق تونسہ بیراج پل سے بھی دھواں اور آگ کے شعلے واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں جبکہ چند روز قبل بھی اسی جنگل میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا، مقامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض عناصر شکار کی غرض سے جان بوجھ کر آگ لگاتے ہیں تاکہ نایاب ہرن پاڑہ اور دیگر جانور کھلے میدان کی طرف نکل آئیں، اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں تاہم آپریشن میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں ۔ سندھو بچاؤ ترلا تنظیم کے رہنما خادم حسین کھرودیگر آدی واسیوں اورماہی گیروں نے محکمہ کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر وائلڈ لائف رینجر عبد الرحمن کے مطابق بڑے جانی نقصان کی رپورٹ موصول نہیں ہوئی، آگ کو قدرتی بریکنگ پوائنٹ تک محدودکرنے کی کوشش جاری ہے عملہ موقع پر موجود ہے