پانی چوری کیخلاف زیروٹالرنس،عملی اقدامات کا حکم
محض رپورٹیں اور روبکاریں بھجوا کر ذمہ داری پوری نہیں کی جا سکتی، محکمہ آبپاشی کو پانی چوری کی فوری نشاندہی،شواہد جمع اور مقدمات کی پیروی کیلئے خود فعال کردار ادا کرنا ہوگاسرکاری آبی وسائل کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے اہلکاروں کی ملی بھگت یا غفلت پر سخت کارروائی کریں،پانی چوری کے واقعات کا ضلع اور تھانہ وار ڈیٹا مرتب کیا جائے ، کمشنر عامر کریم
ملتان (وقائع نگار خصوصی) کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں اور آر پی او ملتان عثمان گوندل کی زیرِ صدارت ڈویژن میں پانی چوری کی روک تھام، مقدمات کے اندراج اور قانونی کارروائی میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سی پی او ملتان، ڈپٹی کمشنر ملتان، ایس ای محکمہ انہار جبکہ ویڈیو لنک پر ڈی سیز اور ڈی پی اوز لودھراں خانیوال، وہاڑی اور محکمہ آبپاشی کے افسران نے شرکت کی۔کمشنر عامر کریم خاں نے کہا کہ پانی چوری کی روک تھام محکمہ آبپاشی کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں محض رپورٹیں اور روبکاریں بھجوا کر ذمہ داری پوری نہیں کی جا سکتی۔ محکمہ آبپاشی کو پانی چوری کے واقعات کی فوری نشاندہی، مؤثر شواہد جمع کرنے اور مقدمات کی پیروی کے لیے خود فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق پانی چوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے ۔کمشنر عامر کریم خاں نے واضح کیا کہ اگر محکمہ آبپاشی کے اہلکاروں کی پانی چوری میں مبینہ ملی بھگت یا فرائض میں غفلت سامنے آئے تو ان کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے ۔ ایسے معاملات میں ملازمت سے برطرفی تک کی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ محکمہ جاتی غفلت کی حوصلہ شکنی ہو اور سرکاری آبی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ پانی چوری کی اطلاع ملنے اور کارروائی کے درمیان غیر ضروری تاخیر ختم کی جائے ۔ متعلقہ محکمے جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل میپنگ اور مؤثر مانیٹرنگ کے ذریعے پانی چوری کے واقعات کی نشاندہی کریں اور اعلیٰ حکام کو افرادی قوت کی کمی، ضروری وسائل اور قانونی اختیارات سے متعلق تجاویز بھی پیش کریں، پانی چوری کے واقعات کا ضلع اور تھانہ وار ڈیٹا مرتب کرکے زیادہ متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کی جائے ۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز، ڈی پی اوز اور محکمہ آبپاشی کے افسران ہفتہ وار بنیادوں پر اجلاس کرکے زیرِ التوا مقدمات اور کارروائیوں کا جائزہ لیں۔ محکمہ آبپاشی ایک ہفتے کے اندر غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی پیش رفت بھی پیش کرے ۔تمام متعلقہ محکمے باہمی تعاون سے وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرو ٹالرنس پالیسی پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔آر پی او ملتان عثمان گوندل نے مقدمات کے اندراج میں تاخیر اور تفتیش کے دوران درپیش مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ آبپاشی کی جانب سے بھجوائی جانے والی روبکاروں میں متعدد افراد کے نام تو درج ہوتے ہیں، لیکن انکی مکمل شناخت اور دیگر ضروری تفصیلات موجود نہیں ہوتیں۔ نامکمل معلومات کی وجہ سے قانونی کارروائی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments