میڈیکل ویسٹ تلفی منصوبہ التوا کا شکار لاگت میں اضافہ

میڈیکل ویسٹ تلفی منصوبہ التوا کا شکار لاگت میں اضافہ

رواں مالی سال میں بھی منصوبے کے آغاز کے آثار نظر نہیں آ رہے ،منصوبے کی تخمینہ لاگت بڑھ کر 3 کروڑ تک پہنچ گئی ،نظرِ ثانی کے بعد ہی قابل عمل ہو گا:حکام

سرگودھا (سٹاف رپورٹر)ضلع سرگودھا کے سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکل ویسٹ کو محفوظ اور جدید طریقے سے تلف کرنے کے زیرِ التوا منصوبے کی لاگت میں 200 فیصد اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے ، جبکہ رواں مالی سال میں بھی اس منصوبے کے آغاز کے آثار نظر نہیں آ رہے ۔ذرائع کے مطابق میڈیکل ویسٹ کی تلفی کے جدید طریقۂ کار اور حکومتی گائیڈ لائنز پر عملدرآمد فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث گزشتہ تین سال سے تعطل کا شکار ہے ۔

اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے اس حوالے سے اجلاسوں اور میٹنگز کا سلسلہ جاری ہے تاہم حکومتِ پنجاب کا ’’ہاسپٹل ویسٹ مینجمنٹ پروگرام‘‘ تاحال سرکاری ریکارڈ کی حد تک ہی محدود ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع کے 23تحصیل ہیڈکوارٹرز اور رورل ہیلتھ سنٹرز، جہاں مریضوں کے بیڈز کی مجموعی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے ، کیلئے 95 لاکھ 40 ہزار روپے کی خصوصی گرانٹ (بشمول متفرق اخراجات) کے اجرا کی سفارشات مرتب کی گئیں، تاہم تاحال کوئی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ہیلتھ اتھارٹی حکام کے مطابق منصوبے کی تخمینہ لاگت اب بڑھ کر تقریباً تین کروڑ روپے تک جا پہنچی ہے ، جس کے باعث منصوبے پر مکمل نظرثانی ناگزیر ہو چکی ہے ۔ حکام کا کہنا ہے کہ نظرِ ثانی کے بعد ہی منصوبہ قابلِ عمل ہو سکے گا، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز کی فراہمی کے معاملے میں تاخیر کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں