مسیح برادری پر تبدیلی مذہب کے فیصلے درست نہیں، مینارٹیز الائنس

مسیح برادری پر تبدیلی مذہب کے فیصلے درست نہیں، مینارٹیز الائنس

مسیح برادری پر تبدیلی مذہب کے فیصلے درست نہیں، مینارٹیز الائنس اس وقت پاکستان میں آئین اور قانون کو موم کی ناک بنا دیا گیا ، طاہر نوید چوہدری

سرگودھا(سٹاف رپورٹر) پاکستان کے آئین میں تمام مذاہب کے بسنے والے افراد کو مکمل مذہبی آزادی دی گئی ہے مگر موجودہ حالات پہ مسیح برادری پر جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی کے حوالہ سے جو فیصلے مسلط کیے جا رہے ہیں وہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے ہمارا آئین اور قانون جس بات کی اجازت دیتا ہے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فرائض منصبی ادا کرے جبری تبدیلی مذہب کے حوالہ سے کوئی بھی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا ۔ان خیالات کا اظہار سرگودھا پریس کلب کے باہر منعقدہ جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری شادی کے حوالہ سے وفاقی آئینی عدالت میں ماریہ شہباز کیس کے حوالہ سے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان مینارٹیز الائنس سابق رکن صوبائی اسمبلی طاہر نوید چوہدری ایڈووکیٹ نے کیا انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں آئین اور قانون کو موم کی ناک بنا دیا گیا ہے جس کا جس طرف دل چاہتا ہے اس کو موڑ لیتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں اور اقلیت والے یہاں پر خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اقلیتوں کو مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں اور فوری طور پر ماریہ شہباز کیس کو واپس لیا جائے

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں