بیمار اور مردہ مرغیوں کے گوشت کی فروخت کے خدشات
بیمار اور مردہ مرغیوں کے گوشت کی فروخت کے خدشات اداروں کی نگرانی مؤثر بنانے پر زور، غیر معیاری گوشت انسانی صحت کیلئے خطرناک قرار
سرگودھا (سٹاف رپورٹر) بیمار، لاغر اور مردہ مرغیوں کے گوشت کی فروخت کی روک تھام کے لیے ماضی میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں، تاہم شہریوں کے مطابق گزشتہ کئی ماہ سے متعلقہ اداروں کی مؤثر نگرانی اور کارروائیاں دکھائی نہیں دے رہیں، جس کے باعث اس سنگین مسئلے پر تشویش بڑھ رہی ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ چیک اینڈ بیلنس کے فقدان سے ناجائز منافع خور عناصر کو سرگرم ہونے کا موقع مل سکتا ہے ، جبکہ بعض مقامات پر بیمار اور مردہ مرغیوں کا گوشت فروخت کیے جانے کے خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ مبینہ طور پر گوشت کی ناگوار بو چھپانے کے لیے مختلف مصالحہ جات اور دیگر اشیا استعمال کیے جانے کی شکایات بھی پائی جاتی ہیں، جو انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔طبی و غذائی تحفظ کے حوالے سے غیر معیاری اور آلودہ گوشت کا استعمال فوڈ پوائزننگ اور دیگر بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے ، اس لیے اس معاملے کو معمولی غفلت سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
شہریوں کے مطابق عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کی جانب سے باقاعدہ نگرانی اور مؤثر کارروائی ضروری ہے ۔شہریوں نے ضلعی انتظامیہ، محکمہ لائیو اسٹاک اور پنجاب فوڈ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ مرغی فروشوں اور گوشت کی دکانوں کی باقاعدگی سے جانچ پڑتال کی جائے ، بیمار یا مردہ مرغیوں کا گوشت فروخت کرنے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے اور عوام کو محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے مستقل بنیادوں پر نگرانی کا نظام مؤثر بنایا جائے ۔
Comments / رائے دیں
Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.
Approved Comments