روس کی ایران میں غیرقانونی رجیم چینج کی کوششوں پر شدید تنقید
ماسکو: (شاہد گھمن) روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ مغربی ممالک ایران میں عدم استحکام کو سیاسی تبدیلی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔
یہ بات انہوں نے وزارتِ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں نمائندہ دنیا نیوز شاہد گھمن کے سوال کے جواب میں کہی۔
پریس بریفنگ کے دوران "نمائندہ دنیا نیوز" نے سوال کیا کہ ایران کا مؤقف ہے کہ حالیہ بد امنی کو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے، اور اطلاعات ہیں کہ امریکہ ایران کے خلاف کسی ممکنہ کارروائی کی تیاری بھی کر رہا ہے، کیا روس سمجھتا ہے کہ امریکہ ویسا ہی طریقہ اختیار کر سکتا ہے جیسا اس نے وینزویلا کے معاملے میں کیا تھا؟ اور ماسکو موجودہ صورتحال کو کیسے دیکھتا ہے؟
جواب میں ماریہ زخارووا نے کہا کہ اس موضوع پر روس پہلے ہی تفصیلی موقف دے چکا ہے، اور وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف گزشتہ روز اس پر جامع بیان دے چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ جدید دور میں رجیم چینج کی پالیسی ناقابلِ قبول ہے، خصوصاً اُن ممالک کے لیے جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا احترام کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
ماریہ زخارووا نے کہا کہ مغربی دباؤ صرف امریکہ اور اسرائیل تک محدود نہیں بلکہ یورپی یونین کے ممالک بھی ایران پر معاشی، سماجی اور انسانی دباؤ ڈال رہے ہیں، جس کا مقصد سیاسی تبدیلی اور اندرونی عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات اب پوشیدہ نہیں رہی کہ مغربی ممالک معیشت اور سماجی میدان کو بطور ہتھیار استعمال کرکے غیر قانونی تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کے لیے قابلِ قبول نہیں ہونا چاہیے۔ جبکہ امریکہ ایران کے خلاف کیا اقدامات کر سکتا ہے، وہ سوال واشنگٹن سے ہی پوچھا جانا چاہیے۔
ایران نے گزشتہ مہینوں میں متعدد بار الزام لگایا ہے کہ مغربی طاقتیں داخلی سیاسی صورتحال کو بیرونی اہداف کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جسے تہران نے اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔
پریس بریفنگ میں یوکرین مسئلہ، ایران کی صورتحال، برطانیہ اور یورپی یونین کی روس مخالف پالیسیوں، گرین لینڈ تنازع، فن لینڈ کے فوجی فیصلوں، نیٹو کے آرکٹک منصوبے، چین کے ساتھ ویزا فری تعاون، بین الاقوامی سائبر سکیورٹی اور روس۔امریکہ تعلقات سمیت متعدد موضوعات پر بھی بات چیت ہوئی۔
ماریہ زخارووا نے مغربی ممالک کی رجیم چینج پالیسیوں، ڈپلومیسی کی جگہ یکطرفہ اقدامات، اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔