سائنسدانوں کا بلیک ہول کے ’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘ تک رسائی کا دعویٰ
نیویارک: (ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے پہلی بار بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن یعنی اس سرحد کے نشانات دریافت کرنے کا دعویٰ کرلیا۔
بین الاقوامی تحقیقی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ اہم پیش رفت 2 بلیک ہولز کے انتہائی شدید تصادم سے پیدا ہونے والی ثقلی لہروں کے تجزیے سے ممکن ہوئی۔
ایونٹ ہورائزن کو بلیک ہول کا ‘پوائنٹ آف نو ریٹرن’ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس حد کو عبور کرنے کے بعد کوئی بھی مادہ یا روشنی واپس نہیں آسکتی، جس کی وجہ سے اس خطے کا براہِ راست مطالعہ ہمیشہ سے سائنسدانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق جب 2 بلیک ہول آپس میں ضم ہو کر ایک بلیک ہول بن جاتے ہیں تو اس عمل کے دوران کائنات میں طاقتور ثقلی لہریں پیدا ہوتی ہیں، جنہیں گزشتہ ایک دہائی سے سائنسدان ریکارڈ کر رہے ہیں۔
سائنسدانوں نے اس تصادم کے آخری مرحلے میں پیدا ہونے والی ڈائریکٹ ویوز کو الگ کر کے ایونٹ ہورائزن کے انتہائی قریب کے علاقے سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
کینیڈا کے پیری میٹر انسٹی ٹیوٹ فار تھیوریٹیکل فزکس سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر سِژینگ ما کا کہنا ہے کہ بلیک ہول کا ایونٹ ہورائزن اب تک سائنس فکشن کا حصہ محسوس ہوتا تھا، لیکن اب ثقلی لہروں کی مدد سے اس کے آس پاس کے علاقے کا مطالعہ ممکن ہو رہا ہے۔
سائنسدانوں نے بلیک ہول کی گردش کے دوران خلا اور وقت کے مڑنے کے عمل، جسے ‘فریم ڈریگنگ’ کہا جاتا ہے، کے شواہد بھی حاصل کیے، تحقیق کے نتائج آئن سٹائن کے عمومی نظریۂ اضافیت کی مزید تائید کرتے ہیں۔
تحقیق پر سائنسی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، بعض ماہرین نے نتائج کو اہم قرار دیتے ہوئے مزید آزادانہ تصدیق کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ چند سائنسدانوں نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا کہ آیا ریکارڈ کی گئی ثقلی لہروں سے واقعی ایونٹ ہورائزن کی خصوصیات کا براہِ راست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔