میٹا پر جیمینائی اے آئی ماڈلز کے استعمال کی حد مقرر

نیویارک: (ویب ڈیسک) امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے میٹا کی جانب سے زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت طلب کیے جانے کے بعد اپنے جیمینائی اے آئی ماڈلز کے استعمال پر حدود عائد کر دی ہیں، کیونکہ حریف ٹیک گروپ مطلوبہ گنجائش فراہم نہیں کر سکا۔

رپورٹ کے مطابق گوگل نے مارچ کے قریب میٹا کو بتایا کہ وہ جیمینائی کی وہ مکمل صلاحیت فراہم نہیں کر سکتا جو کمپنی خریدنا چاہتی تھی، اس کمی کے باعث میٹا کے بعض اندرونی اے آئی منصوبے متاثر ہوئے اور ان میں تاخیر ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق گوگل کے کئی دیگر کلائنٹس بھی متاثر ہوئے ہیں، تاہم ان پر اثر نسبتاً کم رہا، میٹا خاص طور پر متاثر ہوا کیونکہ گوگل کے ماڈلز کے لئے اس کی طلب غیر معمولی حد تک زیادہ تھی۔

رپورٹ کے مطابق ان پابندیوں کے باعث میٹا نے اپنے عملے کو اے آئی ٹوکنز، یعنی اے آئی استعمال کی پیمائش کرنے والی اکائیوں کے زیادہ مؤثر استعمال کی ترغیب دی ہے۔

کمپنیاں چپس اور ڈیٹا سینٹرز پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں، اس کے باوجود وہ اے آئی سروسز کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کیلئے درکار کمپیوٹنگ پاور حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

مارچ میں ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے دوران گوگل کلاؤڈ کی آمدنی بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، تاہم سی ای او سندر پچائی نے کہا کہ کمپیوٹنگ پاور کی پابندیوں نے اس سے بھی زیادہ ترقی کو روک دیا اور کلاؤڈ یونٹ کے بیک لاگ میں سہ ماہی بنیاد پر قریباً 2 گنا اضافے میں کردار ادا کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں