طالبان رجیم کی ناقص پالیسیوں نے افغانستان کو خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچا دیا
کابل: (دنیا نیوز) طالبان رجیم کی ظالمانہ پالیسیوں اور وسائل پر قبضے کی جنگ نے افغانستان کو ایک بار پھر خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچا دیا۔
باغی کمانڈر جمعہ خان فاتح نے افغان رجیم کیخلاف جنگی تیاریوں میں اضافہ کر دیا ہے جس سے صوبہ بدخشاں میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہورہی ہے، طالبان رجیم اور سابق ڈپٹی گورنر جمعہ خان فاتح میں اختلافات نے سنگین بحران کی شکل اختیار کر لی ہے۔
معروف افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق بدخشاں میں طالبان رجیم کیخلاف باغی تاجک کمانڈر جمعہ خان فاتح کی عسکری صف بندی اور جنگی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔
کمانڈر جمعہ خان نے جنگجوؤں کو منظم کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی عمائدین سے مشاورت بھی تیز کر دی ہے، افغان رجیم کی مذاکرات اور نئے عہدے کی پیشکشوں کے باوجود جمعہ خان نے حکومتی ڈھانچے میں واپسی کو مسترد کر دیا ہے۔
کمانڈر جمعہ خان نے اپنی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھ کر فوجی و لاجسٹک دونوں لحاظ سے مکمل طور پر تیار کر دیا ہے، جمعہ خان فاتح کا ماننا ہے کہ بدخشاں کاپہاڑی علاقہ طالبان رجیم کیلئے ان کیخلاف فوجی آپریشن انتہائی مشکل بنادے گا۔
افغان طالبان کی عوام دشمن پالیسیوں کیوجہ سے اس وقت افغانستان میں کئی اسلحہ بردار تحریکیں شروع ہو چکی ہیں، افغان طالبان رجیم کیخلاف مسلح تحریکوں میں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ،افغان فریڈم فرنٹ،افغان گرین ٹرینڈ اورجمعہ خان فاتح کی تحریک شامل ہے۔
عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان کی بدترین آمرانہ طرزِ حکومت اور وسائل پر قبضے کی جنگ نے طالبان کو تقسیم کر دیا ہے، افغانستان میں بڑھتی آزادی پسند تحریکیں واضح ثبوت ہیں کہ افغان عوام طالبان کی بدترین رجیم سے تنگ آ چکے ہیں۔