بنگلہ دیش کے مرکزی امیدواروں نے ووٹ ڈال دیا، آزادی کا دن قرار

ڈھاکہ: (ویب ڈیسک) بنگلہ دیش کی مرکزی قیادت و مرکزی سیاسی امیدواروں نے انتخابات میں حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے اسے آزادی کا دن قرار دے دیا۔

بنگلہ دیش میں انتخابات جوش و خروش سے جاری ہیں، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش شفیق الرحمان نے ووٹ ڈالنے کے بعد دھاندلی کی صورت میں سخت ردعمل کا انتباہ دیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ اگر دھاندلی کے الزامات سنجیدہ ہوئے تو کسی کو نہیں بخشا جائے گا، عوام گھروں سے نکل کر جمہوری حق استعمال کریں اور ملک کی تعمیر میں حصہ لیں۔

شفیق الرحمان نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کی کامیابی کی صورت میں پہلی اسلام پسند حکومت قائم ہو سکتی ہے، ہم ایسے نتائج چاہتے ہیں جو ایک منصفانہ عمل کے ذریعے سامنے آئیں، اگر ووٹنگ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہو گی تو ہم اس کے نتائج کو قبول کریں گے، دوسروں کو بھی اسے تسلیم کرنا چاہیے، یہی جمہوریت کا حسن ہے، اور ہم یہی چاہتے ہیں۔۔

بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کر دیا، اس سے پہلے انہوں نے پولنگ سٹیشن پر پہنچ کر ووٹر رجسٹریشن مکمل کی تھی۔

ڈاکٹر محمد یونس نے عوام سے بڑھ چڑھ کر ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ عبوری حکومت انتخابات ہر طرح سے پرامن اور منصفانہ کرانے کے لیے پرعزم ہے۔

جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے محمد یونس نے کہا کہ یہ میری زندگی کا ایک عظیم دن ہے اور پورے بنگلہ دیش کے لیے بھی ایک عظیم دن ہے، یہ آزادی کا دن ہے۔ یہ ہمارے ڈراؤنے خوابوں کے خاتمے اور ایک نئے باب کے آغاز کی علامت ہے۔

عبوری رہنما نے امید ظاہر کی کہ انتخابی عمل ملک میں استحکام، جمہوریت اور مثبت تبدیلی کی بنیاد رکھے گا، اور بنگلہ دیش ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔

ڈاکٹر محمد یونس نے اس بات پر زور دیا کہ امیدواروں کو ووٹ دینا یقیناً اہم ہے، تاہم ریفرنڈم خصوصی طور پر اہم ہے، ریفرنڈم کے نتائج ملک کی سمت بدل سکتے ہیں اور یہ قومی مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوگا۔

خیال رہے کہ آج انتخابات کے ساتھ ہی ووٹرز حالیہ قانون سازی پر ریفرنڈم میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔

دوسری طرف نیشنل سٹیزن پارٹی کے سربراہ ناہید اسلام نے بھی ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد کہا کہ ہم صرف آزاد اور منصفانہ انتخابات چاہتے ہیں، ہمیں ہار جیت سے فرق نہیں پڑتا، انتخابات آزادانہ ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ میں نے آج زندگی میں پہلی بار ووٹ ڈالا ہے اور مجھے امید ہے کہ انتخابات میں عوام کو اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے دیا گیا تو ہم جیت جائیں گے، گزشتہ رات ملک بھر میں کچھ ناخوشگوار واقعات پیش آئے، کچھ لوگ کشیدہ ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے، ہم ان واقعات پر زیادہ توجہ نہیں دے رہے کیونکہ ہم کسی تصادم یا جھگڑے کے خواہاں نہیں ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ لوگ آئیں اور ووٹ دیں۔۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلا خوف اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔

ادھر بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے چیئرمین طارق رحمان نے ڈھاکہ کے گلشن ماڈل ہائی سکول میں ووٹ ڈالا اور عوام سے بھی بلاخوف و خطر ووٹ ڈالنے کی اپیل کی۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سربراہ طارق رحمان کا کہنا ہے کہ امن عامہ میری پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کو محفوظ سمجھ سکیں، ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے، جیت کی اُمید ہے۔

طارق رحمان نے انتخابات میں حمایت پر ملک کے ممتاز علمائے کرام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ شہری بھرپور جوش و خروش کے ساتھ ووٹنگ میں حصہ لیں گے اور ملک میں ایک نئے جمہوری بنگلہ دیش کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں گے، عوام کی بھرپور شرکت کسی بھی سازش کو ناکام بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

رات کے دوران پیش آنے والے چند چھوٹے واقعات کے حوالے سے سوال پر طارق رحمان نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مؤثر اور سخت کارروائی کی، جو ایک حوصلہ افزا بات ہے، انہوں نے ووٹرز اور پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پورا دن پولنگ سٹیشنوں پر مستعد رہیں۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں، وہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے ہیں اور 17 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد گزشتہ دسمبر میں وطن واپس آئے، انہوں نے جمہوری اداروں کی بحالی، قانون کی حکمرانی اور معیشت کی بہتری کا وعدہ کیا ہے۔

بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے آج اپنے والدین کی قبر پر فاتحہ خوانی کے بعد ٹھاکرگاؤں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول پولنگ اسٹیشن پر اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

انہوں نے مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جمہوریت کے ایک نئے سفر کا آغاز ہو گیا ہے، ہمیں امید ہے کہ یہ راستہ ہموار ہوگا اور ہماری سیاست، معیشت اور ملک کو اس کے مطلوبہ ہدف کی طرف لے جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ دن بہت جدوجہد اور خون کے بدلے حاصل کیا ہے، 17 سال کے دوران لاکھوں لوگ قتل ہوئے، لاپتا کیے گئے اور ظلم و ستم کا نشانہ بنے، آج عوام نے اپنا حقِ رائے دہی حاصل کر لیا ہے۔

فخرالاسلام نے امید ظاہر کی کہ یہ انتخابات منصفانہ، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہوں گے اور بنگلہ دیش کے لیے ایک نئے باب کا آغاز کریں گے۔

گزشتہ رات پیش آنے والے کچھ ناخوشگوار واقعات کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کچھ شرپسند عناصر جو انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، یہ کام کر رہے ہیں، ہمیں امید ہے کہ انہیں شکست ہوگی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں