بنگلہ دیش الیکشن: بی این پی اتحاد نے دو تہائی اکثریت سے میدان مار لیا، جماعت اسلامی نے ہار مان لی
ڈھاکہ: (ویب ڈیسک) بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے ملک میں منعقد ہونے والے 13 ویں عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے جبکہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے طارق رحمان کو مبارکباد دے دی۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بنگالی نیوز چینل جامونا ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو انتخابات میں بڑی اکثریت مل گئی ہے، اب تک غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد کو300 نشستوں میں سے 212 نشستوں پر کامیابی مل چکی ہے جبکہ جماعت اسلامی اتحاد کو 70 نشستوں پر فتح نصیب ہوئی ہے۔
اسی طرح نیشنل سٹیزن پارٹی صرف پانچ سیٹیں جیت پائی ہے، ووٹوں کی گنتی اب تک جاری ہے، ٹرن آؤٹ 60 فیصد رہا۔
بنگلہ دیش کے لوگوں کی صبح کا آغاز اس خبر سے ہوا ہے کہ بی این پی برتری حاصل کر رہی ہے اور اگلی حکومت بنانے کے قریب ہے، بنگلہ دیشی اخبارات نے پہلے ہی بی این پی کی فتح کے امکانات ظاہر کر دیے ہیں، اب بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ بی این پی کے رہنما طارق رحمان ملک کے اگلے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

چیئرمین بی این پی طارق رحمان دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے، امیر جماعت اسلامی شفیق الرحمان بھی اپنی نشست جیت گئے، اتحادی طالبعلم رہنما ناہید اسلام نے ریکارڈ ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی۔
انتخابات میں 7 خواتین بھی منتخب ہو ہو گئیں، افروزاں خان،عشرت سلطانہ، تاشینہ رشدیر، شمع عبیدی، نایاب وسف کمال اور فرزانہ شرمینہ بی این پی کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئیں جبکہ بیرسٹر رحمینہ فرحان نے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔
بھارت میں پناہ گیر شیخ حسینہ نے انتخابات کو ڈھونگ قرار دے دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی بنگلہ دیشی عوام کو مبارکباد
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی عوام اور حکومت پاکستان کی جانب سے طارق رحمان کو بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دے دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام کو انتخابات کے کامیاب انعقاد پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون کا خواہاں ہوں تاکہ اپنے تاریخی، برادرانہ اور ہمہ جہتی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور جنوبی ایشیا اور اس سے باہر امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔
سرکاری نتائج
سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی نے اب تک 100 نشستیں حاصل کر لی ہیں، یعنی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت سے صرف 51 نشستیں کم ہیں۔
حتمی نتائج ابھی آنے ہیں، لیکن پارٹی نے فتح کا دعویٰ کر دیا ہے اور مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
دوسری جانب اسلام پسند جماعت جماعتِ اسلامی 40 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔

امن عامہ پہلی ترجیح ہے: طارق رحمان
بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نےکہا کہ امن عامہ پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کو محفوظ سمجھ سکیں، ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے۔
طارق رحمان نے پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں سے نماز جمعہ میں خصوصی دعاؤں میں شریک ہونے اور کسی بھی قسم کی ریلیوں یا جشن سے گریز کی اپیل کی ہے، بیان میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور دوسری عبادت گاہوں میں جا کر خدا کا شکر ادا کریں۔

ادھر چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا کہ آئینی حق ادا کرنے میں عوام نے بھرپورحصہ لیا۔
شکست تسلیم کرتے ہیں: شفیق الرحمان
بی این پی کی سب سے بڑی حریف جماعت جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنی شکست کو تسلیم کرتی ہے اور وہ ’مخالفت کی سیاست‘ کے بجائے ’مثبت سیاست کے تحت‘ آگے بڑھے گی۔
کوئی پوشیدہ ایجنڈا نہیں: چیف الیکشن کمشنر
بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمیشنر ای ایم ایم ناصرالدین نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے شفاف اور قابل اعتماد انتخابات کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے، ٹی وی یا دیگر نجی ذرائع پر جاری کیے جانے والے اعداد و شمار سرکاری یا حتمی نتائج نہیں ہیں اور صرف وہ نتائج قانونی حیثیت رکھتے ہیں جو ریٹرننگ آفیسرز کی دستخط شدہ گزٹ میں شائع ہوں۔

انہوں نے عوام اور میڈیا کو یقین دلایا کہ کوئی پوشیدہ ایجنڈا یا ہیر پھیر نہیں ہے اور تمام مراحل شفاف طور پر مکمل کیے گئے ہیں۔
ڈھاکہ میں ای سی آفس آگراگون میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے غیر سرکاری نتائج کے اعلان کی تقریب کے دوران ناصرالدین نے کہا کہ عوام دیکھیں، میڈیا دیکھے، ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی جان لے کہ یہاں کچھ چھپانے کو نہیں ہے، ہم نے مکمل شفاف انتخابات کرانے کی کوشش کی ہے۔
امریکی سفیر کی بی این پی کو مبارکباد
بنگلہ دیش میں تعینات امریکی سفیر نے بی این پی اور اس کے رہنما طارق رحمان کو کامیاب انتخابات اور تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔

سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے اپنے پیغام میں لکھا کہ امریکہ دونوں ممالک کی خوشحالی اور سلامتی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے آپ کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔
یاد رہے کہ سرکاری نتائج ابھی جاری نہیں ہوئے، تاہم مقامی میڈیا نے بی این پی کی بھاری اکثریت سے کامیابی کی پیش گوئی کی ہے۔
عالمی مبصرین کا خیال اس الیکشن کے بعد ملک کی صورت حال میں استحکام آنے کی توقع ہے۔
ساڑھے 17 کروڑ کی آبادی رکھنے والے اسلامی ملک پر قریباً 15 برس تک شیخ حسینہ واجد کی جماعت کی حکومت رہی جس سے عوام کو کافی شکایات بھی رہیں اور اس کے نتیجے میں اگست 2024 میں شدید احتجاجی لہر اٹھی تھی۔