امریکا چین سے جنگ ہار جائیگا :پنٹا گون رپورٹ لیک

امریکا چین سے جنگ ہار جائیگا :پنٹا گون رپورٹ لیک

میزائلوں میں چین بہت آگے نکل چکا ،امریکا کو نشانہ بنانیوالے میزائل موجود بڑے بحری جہاز اور خلا میں کارروائی کی صلاحیت کے باعث چین کو واضح برتری

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)چین نے ایسی صلاحیت حاصل کرلی ہے جو کسی بھی ممکنہ تنازع کے آغاز ہی میں امریکا کے اہم عسکری اثاثوں کو ناکارہ بنا سکتی ہے ،یہ انکشاف پنٹاگون کی انتہائی خفیہ رپورٹ میں کیاگیاہے جو لیک ہوگئی ،اس رپورٹ کے مطابق اگر امریکا تائیوان پر جنگ کی صورت میں مداخلت کرے تو چین کے ہاتھوں اس کی شکست کا امکان بہت زیادہ ہو گا۔پینٹاگون کی جنگی مشقوں میں تائیوان پر چینی حملے کے مختلف منظرنامے تشکیل دئیے گئے جن میں دیکھا گیا کہ چین امریکی لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن، بڑے جنگی بحری جہازوں اور سیٹلائٹ نیٹ ورکس کو موثر انداز میں تعیناتی سے قبل ہی مفلوج کرسکتا ہے جبکہ چین کے پاس موجودہ ڈینگ فینگ 31 میزائل کی رینج 12 ہزار کلو میٹر ہے جو امریکہ کے زیادہ تر حصوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ دستاویز پینٹاگون کے آفس آف نیٹ اسسمنٹ نے تیار کی جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکاکا مہنگے اور جدید ہتھیاروں پر انحصار اسے چین کے تیزی سے بننے والے سستے ہتھیاروں کے مقابلے میں کمزور بناتا ہے ۔یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جی آکن نے چند روز قبل امریکا کو خبردار کیا تھا کہ وہ تائیوان کے معاملے کو انتہائی احتیاط سے نمٹے ۔حال ہی میں وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام تک پہنچائی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا اسلحہ خانہ، خصوصاً اس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے درست نشانہ زن میزائل، جدید طیاروں کا پھیلتا ہوا بیڑا، بڑے بحری جہاز اور خلا میں کارروائی کی صلاحیت سے اسے خطے میں امریکی افواج پر واضح آپریشنل برتری حاصل ہو چکی ہے ۔

چین کے پاس تقریباً 600 ہائپرسونک ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا زیادہ تیزی سے سفر کرسکتے ہیں اور انہیں روکنا انتہائی مشکل ہے ۔نیویارک ٹائمز کے مطابق جب بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کو 2021 میں بریفنگ دی گئی تو انہیں احساس ہوا کہ ہماری ہر حکمت عملی کے مقابلے میں چین کے پاس کئی متبادل موجود ہیں، جس پر ان کا چہرہ اتر گیا تھا۔ چین گزشتہ 20 سال میں جمع کئے گئے میزائلوں کی مدد سے امریکا کے کئی جدید ہتھیاروں، خصوصاً طیارہ بردار بحری جہازوں کو تائیوان پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کرسکتا ہے ۔ جنگی مشقوں میں یہ بھی دیکھا گیا کہ امریکی بحریہ کا جدید ترین کیریئر بھی چینی حملہ برداشت نہیں کر پائے گا۔رپورٹ کے مطابق امریکہ کے پاس اب وہ صنعتی صلاحیت نہیں رہی کہ وہ کسی بڑی طاقت کے ساتھ طویل جنگ کیلئے مطلوبہ رفتار اور مقدار میں ہتھیار تیار کرسکے ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ امریکہ کے میزائل ذخائر اسرائیل اور یوکرین کی مدد کے دوران خاصے کم ہو چکے ہیں۔ کروز اور بیلسٹک میزائلوں کے تقریباً ہر شعبے میں چین امریکا سے آگے نکل چکا ہے حالانکہ دونوں ممالک کے پاس تقریباً 400 انٹرکانٹی نینٹل بیلسٹک میزائل موجود ہیں۔ ایران کی جانب سے جون میں اسرائیل پر 12 روزہ بیلسٹک میزائل حملوں کے دوران امریکا نے اپنے اونچی پرواز روکنے والے میزائلوں کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ استعمال کر ڈالا۔دوسری طرف اگرچہ چین نے تائیوان پر حملے کی کوئی تاریخ نہیں دی، لیکن مغربی ممالک کی انٹیلی جنس اور تجزیوں کے مطابق چین 2027 کے قریب تائیوان پر قبضے کی کوشش کرسکتا ہے 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں