ایران :نوبیل امن انعام یافتہ نرگس محمدی ساتھیوں سمیت گرفتار
پولیس نے مشہد میں تقریب کے دوران چھاپہ مارکرپکڑا ،تشددکا نشانہ بھی بنایا نرگس کو 31سال سزا سنائی گئی،طبی وجوہات پر کچھ عرصہ قبل عارضی رہائی ملی تھی
تہران (اے ایف پی)ایران نے نوبیل امن انعام یافتہ انسانی حقوق کی کارکن نرگس محمدی کو گرفتار کر لیا۔نرگس محمدی کی فاؤنڈ یشن اور پیرس میں مقیم ان کے شوہر طغی رحمانی نے سوشل میڈیا پر پوسٹ میں بتایا کہ ایرانی پولیس نے مشہد میں مرحوم وکیل خسروعلی کردی کی یادگاری تقریب میں چھاپہ مار کر نرگس محمدی کو گرفتار کیااورانپر تشددبھی کیاگیا ،نرگس محمدی کی 31سالہ ساتھی سپیدہ غولیان سمیت کئی کارکنوں کوبھی حراست میں لیاگیاہے ۔نرگس محمدی کئی سال سے خواتین کے حقوق اور بنیادی انسانی حقوق کیلئے مہم چلا رہی تھیں اور وہ طبی وجوہات کی بنا پرکچھ عرصہ سے عارضی رہائی پر تھیں۔نرگس محمدی کو 2023 میں نوبل کا امن انعام ملا تھا۔واضح رہے کہ ایران کی بہائی برادری ایک بڑی مذہبی اقلیت ہے ، 53 سالہ نرگس محمدی ستمبر 2022 میں تہران میں زیر حراست مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی تحریک کی اہم آواز ہیں، نرگس کو مجموعی طور پر 13 مرتبہ گرفتار کیا گیا اور 5 مرتبہ قید کی سزا سنائی گئی جن کی مدت 31 سال بنتی ہے جبکہ ساتھ ہی انہیں 154 کوڑے بھی مارے جانے ہیں۔اس سے قبل انہیں 2021 میں گرفتار کرکے جیل میں ڈالا گیاتھا اورفرانس میں مقیم اپنے بچوں سے ملے ہوئے انہیں 8 سال ہو چکے ہیں۔نرگس محمدی ایک غیر سرکاری فلاحی ادارے ڈیفینڈرز آف ہیومن رائٹس سنٹر کی نائب سربراہ بھی ہیں جسے 2003 میں نوبیل کا امن انعام جیتنے والی شیریں عباسی چلاتی ہیں۔