اسرائیل کی غزہ میں 37امدادی تنظیموں کو پابندی کی دھمکی
یروشلم،غزہ(اے ایف پی)اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ آجج معرات سے 37 امدادی تنظیمیں اگر فلسطینی ملازمین کی تفصیلات فراہم نہ کریں تو غزہ میں کام نہیں کر سکیں گی۔۔۔
وزارت برائے ہجرت کے ترجمان گیلاد زوک نے کہا کہ کچھ ملازمین دہشتگردی یا حماس سے تعلق رکھتے ہیں۔حماس نے امدادی تنظیموں پر پابندی کے اسرائیلی فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا اسرائیلی اقدام انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ تنظیم نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ سے فوری اقدامات کی اپیل کی ہے ۔یورپی یونین نے بھی اس فیصلے پر تنقید کی ہے ۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں درجنوں امدادی تنظیموں کی سرگرمیاں معطل کرنے کی دھمکی کو ناقابل قبول قرار دیا۔ ترک نے کہا ایسی من مانی پابندیاں غزہ کے لوگوں کے لیے پہلے سے ناقابل برداشت صورتحال کو مزید بگاڑتی ہیں۔ 2025 کے اختتام پر فلسطینیوں نے نئے سال کا آغاز جشن کے بجائے غم سے کیا ۔ دو سالہ لڑائی کے بعد زیادہ تر بنیادی ڈھانچہ تباہ، بجلی نا پید اور لاکھوں لوگ عارضی خیموں میں رہائش پذیر ہیں۔ بچے پانی کے لیے قطار میں کھڑے ہیں جبکہ خاندان خیموں میں مقیم ہیں۔ مقامی شہری امید کرتے ہیں کہ 2026 میں معمول کی زندگی واپس آئے ، بجلی بحال ہو اور شہری زندگی معمول کے مطابق ہو۔اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی علاقے میں واقع نور شمس پناہ گزین کیمپ میں فلسطینیوں کی 25 عمارتیں مسمار کر دیں۔ مسمار کی گئی عمارتوں میں تقریباً 100 خاندان رہائش پذیر تھے ۔ فلسطینی کمیٹی کے مطابق پہلے ہی 1500 سے زائد خاندان بے گھر ہو چکے ہیں۔اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے کہا ہے کہ 2026 اسرائیل کی سلامتی کے لیے فیصلہ کن سال ہوگا اور حماس کو غیر مسلح کرنا اسرائیل کا حتمی ہدف ہے ۔