متبادل راستوں کے باعث گزشتہ سال تجارت مستحکم رہی :افغانستان

متبادل راستوں کے باعث گزشتہ سال تجارت مستحکم رہی :افغانستان

برآمد و درآمد کنندگان نے ایران ، وسطی ایشیا کے متبادل راستوں پر انحصار کیا ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے ترسیلات میں توسیع کی:وزارت تجارت مجموعی تجارت بڑھ کر 13اعشاریہ9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے :اعداد و شمار

کابل(رائٹرز )افغان وزارتِ تجارت کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے ساتھ اہم سرحدی گزرگاہوں کی بار بار بندش کے باوجود 2025 میں افغانستان کی تجارت مستحکم رہی، کیونکہ برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان نے بتدریج ایران اور وسطی ایشیا کے متبادل  راستوں پر انحصار بڑھا دیا۔تاجروں نے متبادل کے طور پر ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے مال برداری کی اور ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان کے راستے زمینی ترسیلات میں توسیع کی، جس سے تاخیر اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے اثرات کم ہو گئے ۔وزارتِ تجارت کے مطابق 2025 میں مجموعی تجارت گزشتہ سال کے مقابلے میں بڑھ کر13اعشاریہ9ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

برآمدات تقریباً 1اعشاریہ8 ارب ڈالر رہیں جو سال بہ سال مجموعی طور پر مستحکم تھیں، جبکہ درآمدات بڑھ کر 12اعشاریہ1 ارب ڈالر سے کچھ زیادہ ہو گئیں۔بھارت، پاکستان اور وسطی ایشیا کے کئی ممالک افغانستان کی برآمدات کی بڑی منڈیاں رہے ، جہاں خشک میوہ جات، کوئلہ، قالین، زعفران اور زرعی مصنوعات نمایاں برآمدی اشیا تھیں۔درآمدات میں ایندھن، مشینری، بنیادی غذائی اجناس اور صنعتی خام مال سرفہرست رہے ، جو زیادہ تر ایران، متحدہ عرب امارات، چین اور علاقائی ہمسایہ ممالک سے درآمد کیے گئے ۔ 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں