شامی حکومت، کردفورسز میں جنگ بندی معاہدہ، احمد الشرح کا دورہ جرمنی منسوخ

شامی حکومت، کردفورسز میں جنگ بندی معاہدہ، احمد الشرح کا دورہ جرمنی منسوخ

معاہدے کے تحت کرد انتظامیہ و فورسز کا مرکزی حکومت میں انضمام ،کرد باشندوں کو شامی شہریت دی گئی:صدارتی فرمان داعش قیدیوں اور انکے خاندانوں کی ذمہ داری حکومت کو منتقل، شامی فوج کا ملک کے سب سے بڑے آئل فیلڈ پر کنٹرول

 دمشق،برلن(اے ایف پی)شامی صدر احمد الشراع نے کرد فورسز کے سربراہ مظلوم عبدی کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کا اعلان کیا ہے ، معاہدے کے تحت کرد انتظامیہ و سکیورٹی فورسز کا مرکزی حکومت میں انضمام شامل ہے ۔احمد الشرع آج پیر کو جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے کر د رہنما مظلوم عبدی سے ملاقات کریں گے ، اس معاہدے کے بعد شامی حکومت نے دیر الزور، 

 رقہ اور تبقا کے علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ،البتہ، رقہ شہر میں لڑائی کے دوران کرد فورسز کی فائرنگ سے دو شہری ہلاک ہوئے ۔ امریکی ایلچی ٹام بارک نے جنگ بندی کو \"اہم موڑ\" قرار دیا۔ شام کی عبوری حکومت اور کرد قیادت ایس ڈی ایف کے درمیان معاہدے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ داعش کے قیدیوں اور ان کے خاندانوں کی قانونی اور سکیورٹی ذمہ داری اب شامی حکومت سنبھالے گی۔ اس معاہدے کے تحت قیدی مراکز اور کیمپ، جہاں دہشت گردوں اور ان کے اہل خانہ کو رکھا گیا ہے ، کو ایس ڈی ایف کے قبضے سے مرکزی حکومت کے کنٹرول میں منتقل کیا جائے گا، تاکہ ریاست ہی ان کی نگرانی کرے اور ان کے مستقبل کا تعین کرے ۔معاہدے کے بعد شامی فوج نے ملک کے سب سے بڑے آئل فیلڈ پر قبضہ کر لیا ۔ وزارت داخلہ نے بتایا کہ فوج نے ملک کے شمال میں واقع شہر الطبقہ کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ۔ شام کے سب سے بڑے تیل کے ذخیرے ‘العمر’ اور مشرقی علاقے میں ‘کونیکو’ گیس فیلڈ پر قبضہ کر لیا ۔سرکاری پٹرولیم کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان ذخائر کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے اقدامات کرے گی،سیریئن آبزرویٹری کے مطابق شام کی ڈیموکریٹک فورسز نے اتوار کو العمر آئل فیلڈ سے دستبرداری اختیار کر لی، جو شام کی سب سے بڑی آئل فیلڈ ہے ۔شامی فوج نے کہا اس نے الطبقہ فوجی اڈے ، سد الفرات، سد المنصورۃ اور کئی دیہات پر قبضہ کر لیا ہے ۔ ۔شامی عبوری صدر احمد الشرع نے ایک فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت پہلی بار کرد زبان کو قومی زبان اور نوروز کو قومی تہوار قرار دیا گیا ہے ۔

اس کے علاوہ شام میں مقیم تمام کرد باشندوں کو شہریت دی گئی ہے ۔اربیل میں امریکی نمائندے ٹوم باراک اور قسد کے کمانڈر مظلوم عبدی نے ملاقات کی ۔یاد رہے ایس ڈی اایف یا قسد (قوات سوریا الدیمقراطیۃ) اکتوبر 2015 میں قائم ہوئی۔ یہ فورس وائے پی جی اور وائے پی جے پر مشتمل ہے ، جو کرد جماعت پی وائے ڈی کے عسکری ونگ ہیں، اور اس میں دیگر نسلی گروہوں کے جنگجو بھی شامل ہیں۔ قسد شمالی و مشرقی شام کے خودمختار علاقوں میں غالب عسکری قوت ہے ۔ترکی قسد کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے اور اسے پی کے کے کا تسلسل سمجھتا ہے ، جبکہ امریکہ نے داعش کے خلاف جنگ میں قسد کو اپنا اہم اتحادی بنایا۔ شمال مغربی شام میں امریکی فضائی حملے میں گزشتہ ماہ امریکی فوجی اور3 شہریوں کو ہلاک کرنے کے واقعے میں ملوث دہشتگرد ہلاک ہو گیا ۔ امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق ہلاک شخص بلال حسن الجاسم القاعدہ سے وابستہ ایک تجربہ کار دہشت گرد تھا اور اس کا داعش حملہ آور سے براہ راست تعلق تھا۔دوسری جانب شامی صدر احمد الشرع نے رواں ہفتے جرمنی کا طے شدہ دورہ آخری لمحے منسوخ کر دیا ۔ جرمن حکومت کی ترجمان کے مطابق منگل کو ہونے والا یہ دورہ شامی حکام کی جانب سے مو خر کیا گیا۔ اس دورے میں جرمنی میں مقیم شامی باشندوں کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے سمیت دوطرفہ امور پر بات چیت متوقع تھی۔ جرمن حکام کا کہنا ہے کہ منسوخی کی وجوہات فوری طور پر واضح نہیں کی گئیں۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں