8یورپی ممالک کا ڈنمارک، گرین لینڈ کیساتھ اظہار یکجہتی
ٹیرف دھمکیاں نئی تجارتی جنگ کا پیش خیمہ،ہمیں بہت محتاط رہنا چاہیے :ناروے یورپ بلیک میل نہیں ہو گا، ڈینش وزیر اعظم،اضافی ٹیرف ناقابل قبول:آئرلینڈ
اوسلو (اے ایف پی،دنیا مانیٹرنگ)ڈنمارک کے ملکیتی جزیرے گرین لینڈ پر امریکاکے کنٹرول سے متعلق ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد8یورپی اقوام نے اتوار کو ایک مشترکہ
بیان میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے ۔ناروے کے دارالحکومت اوسلو سے جاری بیان میں ڈنمارک، فن لینڈ، جرمنی، فرانس، نیدرلینڈز، ناروے ، سویڈن اور برطانیہ نے کہا نیٹو کے رکن ممالک کے طور پر ہم آرکٹک کے خطے کی سکیورٹی کو مضبوط تر بنانے کے لیے پرعزم ہیں،ہمارے بحر اوقیانوس کے آر پار کے مفادات بھی مشترک ہیں۔ بیان میں مزید کہا ٹیرف کی دھمکیاں ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو متاثر کریں گی اور وہ یورپی امریکی روابط میں خطرناک تنزلی کا باعث بھی بنیں گی۔ناروے کے وزیر اعظم جوناس گاہر سٹؤرے نے کہا ٹرمپ کی اضافی ٹیرف کی دھمکیاں ایکی نئی تجارتی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی اور اسی لیے ایسی دھمکیوں کے سلسلے میں بہت احتیاط سے کام لیا جانا چاہیے تاکہ کوئی ایسی تجارتی جنگ نہ شروع ہو جائے ، جو بعد میں قابو سے باہر ہو جائے ۔
ایسا ہونے سے فائدہ کسی کو بھی نہیں ہو گا۔ ڈنمارک کی خاتون وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے ٹرمپ کی ٹیرف سے متعلق دھمکیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یورپ ایسے کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ کسی بھی صورت بلیک میل نہیں ہوں گے ۔ ڈینش وزیر اعظم نے کہاآرکٹک کا جزیرہ گرین لینڈ ڈینش بادشاہت کا حصہ ہے ، اور ڈنمارک کے نیٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے گرین لینڈ بھی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو ہی کا حصہ ہے ۔ آئرلینڈ کے وزیر خارجہ نے کہا ٹرمپ نے متعدد یورپی ممالک کو یکم فروری سے جو 10 فیصد اضافی ٹیرف لگا دینے کی دھمکی دی ہے ، وہ قطعی ناقابل قبول ہے ۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ کا دفاع صرف اسی صورت ممکن ہے جب وہ امریکا کا حصہ ہو۔