ٹرمپ کے بیٹوں کی ڈرونز میں سرمایہ کاری، مفادات پر سوالات

ٹرمپ کے بیٹوں کی ڈرونز میں سرمایہ کاری، مفادات پر سوالات

صدر کی جنگی کارروائیوں میں خاندان کا مالی مفاد ،منصوبہ تشویشناک:سی آر ای ڈبلیو

نیویارک (اے ایف پی)امریکی صدر ٹرمپ کے بیٹے ، ایرک ٹرمپ اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر ایک نئے کاروباری منصوبے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، جس کا مقصد خودکار  ڈرونز اور دفاعی نظام تیار کرنا ہے ۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ ایران میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ہدایت دے رہے ہیں، جس سے مفادات کے تصادم کے سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں بیٹے خودکار ڈرون کمپنی پاورس اور عوامی طور پر ٹریڈ ہونے والی اوریوس گرینوے ہولڈنگز کے انضمام میں اہم سرمایہ کار ہیں۔ یہ نئی کمپنی پاورس کے نام سے کام کرے گی اور اعلیٰ خطرے والے ماحول میں فوجی اور تجارتی استعمال کے لیے ڈرونز تیار کرے گی۔ پریس ریلیز میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کو اس منصوبے کی اہمیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا۔

اے جی ایچ کے عبوری چیف ایگزیکٹو میتھیو سیکر نے کہا کہ خودکار ٹیکنالوجیز کی ضرورت اور استعمال مشرق وسطیٰ کی تازہ پیش رفت کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ملاپ اے جی ایچ کے شیئر ہولڈرز کے لیے دلچسپ موقع ہے اور موجودہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال میں اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے ۔این جی او "سی آر ای ڈبلیو " کے نائب صدر جورڈن لیبووٹز نے اس منصوبے کو انتہائی تشویش پیدا کرنے والا قرار دیا، اور کہا کہ صدر نے جنگ کے ذریعے امریکا کو ایسے اقدامات میں شامل کیا ہے جو ممکنہ طور پر خاندان کے مالی مفاد میں ہیں۔سی آر ای ڈبلیو نے ٹرمپ انتظامیہ پر پہلے بھی مفادات کے تصادم کے الزامات عائد کیے ہیں، جن میں کرپٹو کرنسی منصوبے اور وائٹ ہاؤس کی ڈیجیٹل کرنسیز کی ترویج شامل ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں