امریکا نے افغانستان کو ’غلط حراست‘ کا معاون ملک قرار دیدیا
افغان حکومت یرغمال افراد کو سفارتکاری کی سیاست کا ذریعہ بنا رہی:محکمہ خارجہ
واشنگٹن(نیوز ایجنسیاں)امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان کو باقاعدہ طور پر ’غلط حراست‘ کا معاون ملک قرار دے دیا ہے ۔اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے الزام لگایا ہے کہ کابل میں طالبان کی حکومت یرغمال بنانے کے ذریعے سفارت کاری کی سیاست پر عمل پیرا ہے ۔واشنگٹن حکومت کی طرف سے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پہلے ایران اور اب افغانستان کو ایسے ممالک قرار دیا جا چکا ہے ، جو اس لیے امریکی شہریوں کو حراست میں لے لیتے ہیں کہ بعد میں امریکی پالیسیوں کے لحاظ سے اپنے لیے چھوٹ حاصل کرنے کی کوششیں کر سکیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ افغان طالبان ابھی تک امریکی پالیسیوں میں اپنے لیے رعایتیں حاصل کرنے یا تاوان کے لیے لوگوں کو اغوا کرنے جیسے دہشت گردانہ ہتھکنڈوں کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے طالبان انتظامیہ سے مطالبہ بھی کیا کہ وہ فوری طور پر ان امریکی شہریوں کو رہا کریں، جن کے بارے میں یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ طالبان کی حراست میں ہیں۔ روبیو کے مطابق طالبان دہشت گردانہ حربے استعمال کر کے افراد کو اغوا کرتے ہیں تاکہ تاوان یا پالیسی میں رعایت حاصل کی جا سکے ۔ انہوں نے زور دیا کہ ڈینس کوائل، محمود حبیبی اور دیگر امریکی شہری جو غیر قانونی طور پر افغانستان میں قید ہیں، فوراً رہا کیے جائیں اور اغوا پر مبنی سفارتکاری کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے ۔