برطانوی سفیر کی سکیورٹی جانچ ناکام ،وزیراعظم سٹارمر پر دبا ؤ
سفیر پیٹر مینڈلسن کی تقرری جیفری ایپسٹین سے تعلق پر بھی متنازع بنی تھی سٹارمر نئے سکینڈل پر برہم ،اپوزیشن نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کر دیا
لندن(اے ایف پی)برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئرسٹارمر نے کہا ہے کہ وہ اپنے برطرف کردہ امریکہ میں تعینات سفیر پیٹر مینڈلسن کی سکیورٹی جانچ میں ناکامی سامنے آنے پر شدید غصے میں ہیں اور اس معاملے نے ان کی حکومت کو ایک بار پھر دباؤ میں ڈال دیا ہے ۔سفیرتقرری سکینڈل کے باعث پہلے ہی سیاسی مشکلات کا سامنا کرنے والے سٹارمر نے کہا کہ انہیں اور دیگر وزرا کو یہ نہیں بتایا گیا کہ مینڈلسن سکیورٹی جانچ میں ناکام ہو گئے تھے ، جسے انہوں نے ناقابلِ معافی قرار دیا۔مینڈلسن کو 2024 میں واشنگٹن میں برطانیہ کا سفیر مقرر کیا گیا تھا تاہم بعد ازاں ان کے مرحوم امریکی مجرم جیفری ایپسٹین سے تعلقات کے باعث یہ تقرری شدید تنازع کا شکار رہی۔سٹارمر نے بتایا کہ انہیں پارلیمنٹ میں یہ یقین دہانی کرانی پڑی کہ تمام قانونی اور سکیورٹی طریقہ کار مکمل کیا گیا ہے ، لیکن بعد میں انکشاف ہوا کہ ایسا نہیں تھا۔انہوں نے کہامجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ سکیورٹی جانچ میں ناکام ہوئے اور جب میں پارلیمنٹ میں یہ کہہ رہا تھا کہ تمام کارروائی مکمل ہوئی ہے ، یہ ناقابلِ معافی ہے ۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ پیر کو پارلیمنٹ میں تمام حقائق پیش کریں گے تاکہ مکمل شفافیت قائم کی جا سکے ۔
حکومتی سطح پر اس معاملے کا ذمہ دار وزارتِ خارجہ کے حکام کو ٹھہرایا گیا ہے ، اور وزارت کے اعلیٰ سول سرونٹ اولی رابنز کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے ۔حکومتی وزیر ڈیرن جونز کے مطابق وزیرِاعظم نے ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی نے بھی سابق اعلیٰ افسر سے اس معاملے پر اگلے ہفتے وضاحت طلب کر لی ہے ۔رپورٹس کے مطابق مینڈلسن کے تقرر کے وقت سکیورٹی خدشات موجود تھے ، تاہم بعد میں وزیرِاعظم پر دباؤ کے باوجود ان کی تقرری آگے بڑھائی گئی۔حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس معاملے پر سٹارمر سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے ، جبکہ کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈینوچ نے کہا کہ سٹارمر نے قومی سلامتی سے غداری کی ہے ، انہیں جانا چاہیے ۔حکومتی مؤقف ہے کہ وزیرِاعظم خطرے میں نہیں اور وہ ایک مضبوط عالمی رہنما کے طور پر کام جاری رکھیں گے ۔مینڈلسن کو بعد میں ان کے کردار پر اٹھنے والے خدشات اور مزید انکشافات کے بعد برطرف کر دیا گیا، جبکہ ان کے خلاف پولیس نے بھی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔