کینیڈا میں تین دہائیوں کے دوران سب سے بڑی فوجی بھرتی

کینیڈا میں تین دہائیوں کے دوران سب سے بڑی فوجی بھرتی

اتحادیوں سے پیچھے رہ جانے کا خوف یا ٹرمپ کی دھمکی کا اثرفوجی بھرتی کاسبب بنا کینیڈااتحادیوں کی طرح موجودہ جنگ کا تجزیہ کر کے آئندہ کی تیاری کر رہا :ماہرین

ٹورنٹو(مانیٹرنگ ڈیسک )کئی دہائیوں تک کینیڈا کو دفاعی اخراجات کے حوالے سے عالمی سطح پر پیچھے سمجھا جاتا رہا اور صرف دو سال پہلے فوجی بھرتی کی صورتحال اس قدر خراب  تھی کہ ایک سابق وزیرِ دفاع نے خبردار کیا تھا کہ مسلح افواج تباہی کے دہانے پر ہیں لیکن اب کینیڈا کی فوج اس رفتار سے بڑھ رہی ہے جو کئی دہائیوں میں نہیں دیکھی گئی اور یہ 30 سال میں بھرتی کی سب سے زیادہ سطح تک پہنچ گئی جبکہ یہ ممکنہ طور پر عملے کی کمی کا مسئلہ بھی ختم کر سکتی ہے جو طویل عرصے سے فوج کو متاثر کر رہا تھا۔گزشتہ دو سال میں اس اضافے کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بڑے تنازعات اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے اور کینیڈا برسوں تک نیٹو کی ذمہ داریوں پر پورا نہ اترنے کے بعد اب فوج کیلئے اربوں ڈالر کی نئی فنڈنگ کر رہا ہے ۔

یہ تبدیلی غیر معمولی قوم پرستی بڑھنے کیساتھ بھی اُسوقت سامنے آئی جب امریکی صدر ٹرمپ نے کینیڈا کو ‘51ویں ریاست’ کہا، یہ ایسا بیان تھا جسے بہت سے لوگوں نے قریبی ہمسایہ ملک کی طرف سے اپنی خودمختاری کیلئے خطرہ سمجھا۔اتحادیوں سے پیچھے رہ جانے کا خوف یا ‘ٹرمپ کی دھمکی کا اثر’فوجی بھرتی کاسبب بنا۔کینیڈین گلوبل افیئرز انسٹیٹیوٹ کی ماہر شارلٹ ڈووال لانتوان جو کینیڈا کی فوجی ثقافت پر تحقیق کرتی ہیں کاکہناہے کہ حالیہ بھرتیوں میں اضافے کے پیچھے ‘ٹرمپ اثر’ہو سکتا ہے لیکن فوجی درخواستوں میں اضافہ 2022 میں ہی شروع ہو گیا تھاجب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا ۔ کینیڈا کے وزیرِ دفاع ڈیوڈ مک گینٹی کاکہناہے کہ انہیں یقین ہے کہ ملک اپنی بھرتی کے اہداف مقررہ وقت سے پہلے حاصل کر سکتا ہے ۔ 

 

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں