ایران نے امریکی تجاویز کا جواب پاکستان کو بھجوا دیا: ایرانی میڈیا
تہران: (دنیا نیوز) ایران نے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا کی جانب سے دی گئی تجویز کا باضابطہ جواب پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھجوا دیا ہے جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیزی اختیار کر گئی ہیں۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق تہران نے امریکا کی تازہ تجویز پر اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دیا، تاہم جواب کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
خبر ایجنسی نے مختصر بیان میں کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران نے آج امریکی مجوزہ متن پر اپنا جواب پاکستانی ثالثوں کے ذریعے ارسال کر دیا ہے، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہے‘۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے موجودہ مرحلے میں توجہ صرف خطے میں جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے پر مرکوز ہے جبکہ سیاسی اور سیکیورٹی معاملات بعد میں زیر غور آئیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان حالیہ ہفتوں میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے بعد عالمی طاقتیں صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی فوجی قیادت نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کی مسلح افواج امریکا اور اسرائیل کی کسی بھی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ تہران امریکی تجاویز کا اندرونی سطح پر جائزہ لے رہا ہے اور مشاورت مکمل ہونے کے بعد اپنا حتمی مؤقف پیش کرے گا۔
پاکستان اس سفارتی عمل میں اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اسلام آباد نے 8 اپریل کو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کرانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 40 روز تک جاری رہنے والی جھڑپیں رک گئی تھیں۔
تاہم جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی بڑے بریک تھرو پر منتج نہ ہو سکے، کیونکہ خطے کی سیکیورٹی ضمانتوں اور کشیدگی کم کرنے کے وسیع تر نکات پر اختلافات برقرار رہے۔وال اسٹریٹ جرنل نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکا ایران مذاکرات اسلام آباد میں اگلے ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، واشنگٹن اور تہران کے درمیان اس سلسلے میں بیک ڈور ڈپلومیسی جاری ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً ایک ماہ تک باضابطہ مذاکرات جاری رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے، جس میں جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی، اقتصادی پابندیوں پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے، پابندیوں پر نرمی، خطے میں سیکیورٹی صورت حال پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔
آبنائے ہرمز کشیدگی، بحری راستوں کی سیکیورٹی بھی مذاکرات کا اہم ایجنڈا ہو سکتی ہے، ایران افزودہ یورینیم، جوہری سرگرمیوں پر بعض شرائط کے ساتھ لچک دکھانے پر غور کر رہا ہے، امریکی حکام چاہتے ہیں کہ ایران یورینیم افزودگی محدود کرے، جب کہ تہران پابندیوں میں واضح نرمی اور معاشی ریلیف کا مطالبہ کر رہا ہے۔