تازہ اسپیشل فیچر

روبوٹس کی دنیا… چین کا وہ شہر جہاں مشین میں انسانی حرکات قید ہیں

اسلام آباد: (ذیشان یوسفزئی) پوری دنیا میں اس وقت یہ بحث جاری ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے آنے سے انسان کے لیے آسانیاں پیدا ہو رہی ہیں لیکن ساتھ ہی یہ خدشہ بھی بڑھ رہا ہے کہ روبوٹس کی موجودگی انسانی لیبر فورس کو کم کر دے گی۔

خاص طور پر جب دنیا اے آئی سے آگے بڑھ کر آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس (اے جی آئی) کی طرف جا رہی ہے تو یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ مستقبل میں انسان اور مشین کا تعلق کیا ہوگا؟۔

اکثر لوگ ان چیزوں کو ویڈیوز میں دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور انہیں ایک دور کے خواب کے طور پر لیتے ہیں لیکن یہ تصور اس وقت حقیقت میں بدلتا محسوس ہوا جب مجھے چین کے شہر ووہان جانے کا موقع ملا۔

ووہان کو ٹیک ویلی کہا جاتا ہے، جہاں روبوٹس، ڈرائیور لیس ٹیکسی اور سکائی ٹرین جیسے جدید نظام دیکھنے کو ملتے ہیں، سکائی ٹرین بغیر ڈرائیور کے چلتی ہے اور اس میں سفر کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان فضا میں محوِ سفر ہو۔

روبوٹس کے حوالے سے سب سے اہم تجربہ ووہان کے ہوبی ہیومینائیڈ روبوٹ انوویشن سینٹر کا دورہ تھا، جہاں مختلف اقسام کے روبوٹس دیکھنے کا موقع ملا، چین نے یہ روبوٹس مختلف کاموں کے لیے تیار کیے ہیں، کچھ دفاع کے لیے، کچھ گھریلو استعمال کے لیے اور کچھ مارکیٹس اور مالز میں خدمات انجام دینے کے لیے تھے۔

ہر روبوٹ کی تیاری کے بعد اس کی ابتدائی جانچ، پھر پائلٹ ٹیسٹ اور آخر میں ڈیٹا انٹیگریشن کا مرحلہ آتا ہے، ان ربوٹس کے بنانے میں سب سے دلچسپ مرحلہ یہی ڈیٹا انٹیگریشن تھا، یہاں پر یہ بات بھی واضح ہوئی کہ روبوٹس کی حرکات محض پروگرامنگ کا نتیجہ نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پیچھے انسانی حرکات کا عکس ہوتا ہے۔

یہ سارا ڈیٹا انسانی وجود سے ہی حاصل کیا جاتا ہے اس کے بعد یہ ڈیٹا ربوٹ میں فیڈ کیا جاتا ہے، انسانی وجود سے ڈیٹا کے حصول کے لیے انسان کو ایک خاص لباس پہنایا جاتا ہے جسے موشن کیپچر سوٹ کہا جاتا ہے، یہ سوٹ جسم کی حرکات کو ریکارڈ کرتا ہے تاکہ وہی حرکات روبوٹ یا دیگر اے آئی سسٹمز میں منتقل کی جا سکیں۔

اس سوٹ میں مختلف سینسرز جسم کے حصوں یعنی بازو، ٹانگیں، کمر اور گردن پر لگے ہوتے ہیں جو حرکت، زاویہ اور رفتار کو ریکارڈ کرتے ہیں، اس کے ساتھ چھوٹے ریفلیکٹو مارکرز ہوتے ہیں جنہیں کیمرے ٹریک کرتے ہیں جبکہ انرشیل میژرمنٹ یونٹس روٹیشن اور جسم کی پوزیشن کو نوٹ کرتے ہیں، اردگرد نصب ہائی سپیڈ کیمرے ان تمام حرکات کو ریکارڈ کرتے ہیں اور ایک کنٹرول یونٹ کے ذریعے یہ ڈیٹا کمپیوٹر تک منتقل کیا جاتا ہے، جہاں سے اسے روبوٹ میں شامل کیا جاتا ہے۔

یہ منظر اس وقت اور بھی دلچسپ ہو جاتا ہے جب انسان خود یہ سوٹ پہن کر حرکت کرتا ہے، کیونکہ اس کی حرکات اور روبوٹ کی حرکات میں حیرت انگیز مماثلت نظر آتی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انسان خود اپنے ایک مشینی عکس کو زندگی دے رہا ہو۔

اس سینٹر میں مختلف اقسام کے روبوٹس موجود تھے، آٹو موبائل انڈسٹری کے لیے بنائے گئے روبوٹس جو 70 کلو وزنی تھی ان میں خاص طور پر ہاتھوں پر توجہ دی گئی تھی کیونکہ ان کا زیادہ تر کام اسی پر منحصر ہوتا ہے، ان کے ہاتھ انسانی ہاتھوں کی طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں تاکہ وہ پیچیدہ کام بھی انجام دے سکیں۔

ہمیں بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہوبی میں آٹو موبائل کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے اور میں زیادہ تر روبوٹس پر منتقل ہوچکی ہے یا پھر ہورہی ہے، گھریلو اور تجارتی استعمال کے روبوٹس انسانوں کی طرح کام کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں، یہ گھروں میں روزمرہ کے کام انجام دے سکتے ہیں اور مالز یا سٹورز میں سروس فراہم کر سکتے ہیں، کچھ روبوٹس کو زیادہ استحکام دینے کے لیے ان میں ٹانگوں کے بجائے پہیے لگائے گئے ہیں تاکہ وہ بہتر انداز میں حرکت کر سکیں۔

دفاعی مقاصد کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس ایک مختلف نوعیت رکھتے ہیں، ان میں کیمرے اور ریڈار نصب ہوتے ہیں اور انہیں ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے، کچھ حالات میں یہ خودکار انداز میں ردعمل بھی ظاہر کر سکتے ہیں، یہ روبوٹس خطرے کی صورت میں الرٹ جاری کرتے ہیں اور پھر کمانڈ کا انتظار کرتے ہیں ضرورت پڑنے پر نہ خود سے ایکٹ بھی کرتے ہیں، مختلف سائز کے یہ روبوٹس نگرانی سے لے کر دیگر حساس کاموں تک استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

ہمیں بتایا گیا کہ چین جہاں پاکستان کے ساتھ دیگر شعبوں میں اشتراک کر رہا ہے وہیں پر اس شعبے میں بھی اپنے دوست ملک کے ساتھ پارٹنرشپ کے لیے تیار ہے، تاہم اس پورے تجربے نے ایک بات واضح کر دی کہ روبوٹس محض مشینیں نہیں بلکہ انسانی ذہانت اور حرکات کا تسلسل ہیں، جہاں یہ ٹیکنالوجی سہولت اور رفتار فراہم کرتی ہے وہیں یہ ایک نئے سوال کو بھی جنم دیتی ہے کہ مستقبل میں انسان کا کردار کیا ہوگا؟۔

یہ کہنا درست ہوگا کہ روبوٹس اور اے آئی کا بڑھتا ہوا استعمال نہ صرف دنیا کو بدل رہا ہے بلکہ انسان کو بھی اپنے کردار پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر رہا ہے، یہ ترقی ایک طرف آسانیاں لے کر آ رہی ہے تو دوسری طرف ایک نیا چیلنج بھی پیش کر رہی ہے۔

پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ تبدیلی خاص اہمیت رکھتی ہے، ایک طرف یہ موقع ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا کر صنعت، تعلیم اور معیشت کو مضبوط کیا جائے جبکہ دوسری طرف یہ ضرورت بھی ہے کہ انسانی مہارتوں کو اس نئے دور کے مطابق ڈھالا جائے۔

چین جیسے ملک کے ساتھ تعاون اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی اس میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ انسان بدلتی ہوئی دنیا میں خود کو کہاں کھڑا دیکھنا چاہتا ہے اور اس کے لیے کیا تیاری کر رہا ہے؟۔