بھارت :بشیر بدر انتقال کر گئے ، انکے شعر بھٹو نے اندرا گاندھی کو سنائے
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک )بھارت کے معروف شاعربشیر بدر 91برس کی عمر میں دارفانی سے کوچ کرگئے ،ان کاانتقال جمعرات 28مئی کو دوپہر کے وقت ہوا۔
وہ کچھ عرصے سے شدید علیل تھے اور انہیں ڈیمنشیا (چیزیں یاد رکھنے ، سوچنے ، سمجھنے اور بولنے کی صلاحیت میں کمی) کا مرض بھی لاحق تھا ،1972میں شملہ معاہدے کیلئے بات چیت کے دوران پاکستانی وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹونے بشیربدر کا شعربھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کو سنایاتھا۔تفصیلات کے مطابق بشیر بدر کی پیدائش 1935 میں ہوئی،سرکاری ریکارڈ میں ان کی جائے پیدائش کانپور درج ہے لیکن اہل خانہ کے مطابق وہ اتر پردیش کے موجودہ امبیڈکر نگر ضلع کے گاؤں بکیاں میں پیدا ہوئے تھے ۔انہوں نے 1969 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اورآزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ کے موضوع پر پی ایچ ڈی بھی کی، جو آج بھی کئی جگہوں پر پڑھائی جاتی ہے ۔وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے 1972میں شملہ ٹاک کے دوران دشمنی کی راہ چھوڑ کر امن کے راستے پر چلنے کیلئے بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو بشیربدرکا ایک شعر ’’دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے ‘‘،’’جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں‘‘سنایا تھا جس پر اندراگاندھی نے کہاتھاکہ ہمارا شعر ہمیں ہی سنا رہے ہیں۔بشیر بدر نے دو شادیاں کیں ،پہلی بیوی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔
پہلی بیوی کے انتقال کے بعد انہوں نے ڈاکٹر راحت بدر سے شادی کی، جن سے ان کا ایک بیٹا طیب بدر ہے ۔بشیر بدر نے 1974 میں میرٹھ کالج کے شعبہ اردو میں بطور لیکچرار کام شروع کیا اور 1980 کی دہائی کے آخر تک وہاں تعلیم دیتے رہے ۔طیب بدر کے مطابق بشیر بدر کافی عرصے سے ڈیمنشیاکے مرض میں مبتلا تھے اور کچھ عرصے سے ان کی طبیعت مسلسل خراب رہتی تھی اور وہ لوگوں کو پہچاننے میں بھی دشواری محسوس کرتے تھے ۔ان کے انتقال کے بعد سوشل میڈیا پر لوگ مسلسل ان کے اشعار شیئر کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک شعر بار بار یاد کیا جا رہا ہے ، جو ان کے گھر کے باہر تختی پر بھی درج ہے ،’’‘اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو‘‘،’’نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے ‘‘۔بشیرمدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کے صدر بھی رہ چکے ہیں ،ان کی کتابوں میں اکائی،آمد،آہٹ،آس اور کلیاتِ بشیر بدر شامل ہیں جبکہ آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ اور 20 ویں صدی میں غزل جیسی کتب کو اردو ادب میں اہم سمجھا جاتا ہے ۔انہیں پدم شری اور ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سمیت کئی اعزازات ملے ۔ 1980 میں نیو یارک میں انہیں پوئٹ آف دی ائر قرار دیا گیا۔