فرانس: چیمپئنز لیگ کے بعد ہنگامے، 57 پولیس اہلکار زخمی، 780 افراد گرفتار
مظاہرین نے کچرے کے ڈبوں اور دیگر سامان کو سڑک پر آگ لگادی، درجنوں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچایا دو کاروباری اداروں اور ایک بس سٹاپ کو بھی نقصان پہنچا:پولیس ، ایسے واقعات ناقابل قبول :وزیرداخلہ
پیرس (سپورٹس ڈیسک،اے ایف پی )فرانس بھر میں فٹبال کے شائقین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 780 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ، یہ صورتِ حال پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) کی جانب سے چیمپئنز لیگ فائنل میں آرسنل کے خلاف فتح کے بعد پیدا ہوئی۔ دارالحکومت پیرس میں بدامنی کو قابو میں رکھنے کے لیے ہزاروں اہلکار تعینات کیے گئے تھے ۔کئی مظاہرین نے کچرے کے ڈبوں اور دیگر سامان کو سڑک پر آگ لگادی، درجنوں گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔مظاہرین نے فضا میں چھوڑنے والی آتش بازی سامنے کھڑے پولیس اہلکاروں پر چلادی ،جھڑپوں میں 57 سکیورٹی اہلکار اور 219 افراد زخمی ہوئے ، جن میں آٹھ کی حالت تشویشناک ہے ، شہر کے مرکز میں ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ وزیر داخلہ لاراں نونیز کے مطابق حکام بہتر طور پر تیار تھے اور ان کے پاس بہت مضبوط، انتہائی مستحکم نظام موجود تھا۔
فرانس کی علامتی شانزے لیزے سڑک پر فرانسیسی ٹیم کی جیت کے فوراً بعد شائقین کا ہجوم امڈ آیا۔شہر سے موصول ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شعلہ بردار روشنیاں جلائی جا رہی ہیں، سڑکوں پر برقی موٹر سائیکلیں جل رہی ہیں اور جشن منانے والے کم از کم ایک دکان کے شیشے توڑ رہے ہیں۔اس سے پہلے دن کے وقت پی ایس جی کے پارک دی پرنس میں نصب بڑی سکرینوں پر فائنل دیکھنے آنے والے شائقین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس کے مطابق بدامنی کے دوران چھ گاڑیوں، دو کاروباری اداروں اور ایک بس سٹاپ کو نقصان پہنچا۔گرفتارافراد کے قبضے سے تیزاب بھری بوتلیں بھی برآمد کرلی ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ بدامنی کے ایسے واقعات بالکل ناقابلِ قبول ہیں،پیرس رنگ روڈ پر موٹوکراس بائیک حادثے میں ایک نوجوان جان کی بازی ہار گیا، جبکہ ایک شخص چاقو کے وار سے شدید زخمی ہوا۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی جب پی ایس جی نے یہی ٹرافی جیتی تو اسی نوعیت کا تشدد دیکھنے میں آیا تھا۔