اٹلی: 4مزدور زندہ جلادئیے گئے ، 2پاکستانی گرفتار
مقتولین میں 3افغانی ،1 پاکستانی شامل ،منی وین سے لاشیں بر آمد فوٹیج میں 2 افراد کو وین کے دروازے بند، آتش گیر مادہ پھینکتے دیکھا گیا ملزم دھمکاتے ، بغیر معاوضہ کام کرواتے تھے :بچ جانیوالاافغان شہری
روم(اے ایف پی)اطالوی پولیس نے جنوبی اٹلی میں جلی ہوئی منی وین سے مردہ پائے جانے والے چار زرعی مزدوروں، جن میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل تھا، کے قتل کے الزام میں دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا ۔یہ گاڑی صوبہ کلابریا کے زرعی علاقے میں واقع قصبے امیندولارا کے قریب ایک پٹرول پمپ سے برآمد ہوئی۔اطالوی میڈیا کے مطابق ایک افغان شہری، جو اس واقعے میں بچ گیا، نے بتایا کہ وہ گاڑی کا شیشہ توڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔اس شخص کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے گئے پاکستانی ملزمان اسے اور دیگر مزدوروں کو چاقو اور اسلحے کے زور پر دھمکاتے تھے اور ان سے بغیر معاوضے کے کام کرواتے تھے ۔اخبار کورئیرے ڈیلا سیرا نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پٹرول پمپ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اندر کوئی مائع مادہ پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔رپورٹ کے مطابق فوٹیج میں آگ بھڑکتے اور دونوں افراد کو موقع سے فرار ہوتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔
فائر فائٹرز نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے لاشیں برآمد کیں۔ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ تمام چار مقتولین پاکستانی شہری تھے ۔مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی کے حوالے سے اخبار نے لکھا کہ یہ یقیناً قتل کا واقعہ ہے ، اب ہمیں صرف اس کی تمام تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔اخبار کے مطابق حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں پاکستانیوں کو لے جانے والی گاڑیوں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔ علاقے میں زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات اور رہائش کے مسائل پر تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے ۔دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔