سرحدی تنازعات ، افغانستان میں آٹو پارٹس تجارت بحران کا شکار

سرحدی تنازعات ، افغانستان میں آٹو پارٹس تجارت بحران کا شکار

پاکستان کیساتھ سرحد کی بندش سے امارات کے ذریعے در آمدات انتہائی مہنگی فی کنٹینر شپنگ لاگت 2ہزار ڈالر سے بڑھ کر 8 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی:تاجر اسد افغانستان میں درآمدات و برآمدات کا فرق جی ڈی پی کے 70 فیصد تک پہنچ گیا

 سپن بولدک (اے ایف پی)افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں گاڑیوں کے سپیئر پارٹس کی کبھی عروج پر رہنے والی تجارت سرحدی تنازعات اور علاقائی جنگوں کے باعث شدید بحران کا شکار ہو گئی ۔ سپن بولدک کی مشہور مارکیٹ کو پہلا بڑا دھچکا گزشتہ اکتوبر میں اس وقت لگا جب پاکستان کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کے بعد سرحد تقریباً مکمل طور پر بند کر دی گئی۔ قندھار چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کے نائب سربراہ عبدالباقی بینا نے بتایا کہ پاکستان کے راستے بند ہونے کے بعد تاجروں نے ایران کی بندر عباس بندرگاہ کے ذریعے برآمدات اور درآمدات جاری رکھیں۔جاپان اور دیگر ممالک سے آنے والے گاڑیوں کے پرزے جوپہلے پاکستان کے راستے زمینی سفر کرتے ہوئے سپن بولدک پہنچتے تھے ، بعد ازاں متحدہ عرب امارات کے ذریعے لائے جانے لگے ، مگر یہ راستہ طویل اور زیادہ مہنگا ثابت ہوا۔بعد ازاں فروری میں مشرقِ وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے سے افغانستان کی تجارتی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔

دبئی اور جاپان سے درآمدات کرنے والے تاجر اسداللہ نے بتایا کہ تنازعات نے کئی ماہ سے کاروبار کو مفلوج کر رکھا ہے ، پہلے روزانہ دو کنٹینرز کھولے جاتے تھے ، لیکن اب فی کنٹینر شپنگ لاگت تقریباً دو ہزار ڈالر سے بڑھ کر آٹھ ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ہے ۔ اس وقت ان کے 30 سے زائد کنٹینرز جاپان اور متحدہ عرب امارات میں پھنسے ہوئے ہیں، جس کی بڑی وجہ دبئی کی جبل علی بندرگاہ پر تاخیر ہے ، جو خطے کا ایک اہم تجارتی مرکز سمجھی جاتی ہے ۔دوسری جانب عالمی بینک نے مئی میں جاری اپنی رپورٹ میں افغانستان کو بیرونی معاشی جھٹکوں سے شدید متاثر ہونے والا ملک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ مالی سال 2025 کے دوران درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق ملکی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کے 70 فیصد تک پہنچ گیا۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں